The news is by your side.

Advertisement

کچھ شیشے ٹوٹ گئے تو کون سی قیامت آگئی؟ مصطفی عزیز آبادی

کراچی : رہنما ایم کیو ایم مصطفی عزیر آبادی کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد نے کچھ شیشے توڑ دیئے تو کون سی قیامت آگئی؟۔

متحدہ قومی مومنٹ کے کارکنان کی جانب سے اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملے کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی عزیر آبادی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے جذبات میں چند کھڑکیاں اور دروازے توڑ دیئے تو ایک طوفان کھڑا کردیا گیا، اس سے قبل بھی میڈیا ہاوسزز پر حملے ہوئے اس کا ذمہ دار کون ہے ؟

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ٹاک شو میں عدالتیں لگائی جاتی ہیں ہمیں دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے ،آپ سیاسی نظریات سے اختلاف کیجیئے لیکن کردار کشی مت کریں، یہاں انسانی جانیں جا رہی ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ایم کیو ایم کے 62 کارکنان واپس نہیں آئے گے ۔

ایک سوال کے جواب میں ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے الطاف حسین کی دو گھنٹوں کی تقاریر نشر کی ہیں تو کوئی احسان نہیں کیا۔

پروگرام میں شامل مہمان پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ مصطفی عزیر آبادی کی گفتگو اقرار ہے کہ اے آر وائی نیوز پر حملہ ایم کیوایم نے ہی کروایا ہے۔

اس سے قبل ایم کیو ایم کے رہنما عامر لیاقت حسین کا اے آر وائی نیوز کے دفتر پر ہونے والے حملے پر کہنا تھا کہ میں اے آروائی انتظامیہ سے معافی مانگتا ہو لیکن ابھی شک ہے کہ یہ ایم کیو ایم کے کارکن تھے یا نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں