The news is by your side.

Advertisement

آٹا مہنگا ہونے کی اصل وجوہات سامنے آگئیں

بیرون ملک سے گندم درآمد ہونے کے باوجود ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔

منافع خور مافیا نے سستی گندم خرید کر آٹا مہنگا فروخت کرنا شروع کر دیا ہے جب کہ فلور ملز مالکان من مانی قیمتوں پر آٹا فروخت کررہے ہیں۔

ملک میں گندم کی بمپر کراپ ہونے کے باوجود گندم کامنصوعی بحران پیدا کیا جارہا ہے۔ فلور ملز مالکان سستی گندم خرید عوام کو مہنگا آٹا فروخت کر رہی ہیں۔

فلور ملز مالکان نے فائن آٹا74ر وپے اور ڈھائی نمبر آٹا 65روپے فی کلو کر دیا ہے۔سندھ حکومت نے 15 ستمبر کو گندم کی سرکاری قیمت پرفروخت کی پالیسی کا اعلان کرنا تھا جو تاحال نہیں کیا گیا۔

سندھ حکومت یکم اکتوبر سے سرکاری گندم فلور ملز کو سرکاری نرخ فراہم کرنے کی پابند ہے لیکن سندھ حکومت نے تاحال فلور ملز کو سرکاری گندم کو کوٹہ فراہم نہیں کیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مصنوعی بحران پیدا کر دیا گیا۔

امسال سندھ میں پینتالیس لاکھ ٹن گندم کی پیداوار ہوئی ہےجب کہ سندھ حکومت کے پاس بارہ لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔

ایک سو کلو گرام مقامی گندم کی اوپن مارکیٹ میں قیمت5ہزار 400روپے اور درآمد ی گندم 5 ہزار ایک سوروپے میں فروخت ہو رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں