دنیا بھر میں جنوبی کوریا کی فلمیں اور ویب سیریز بے حد پسند کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے، نیٹ فلیکس سمیت کئی بڑے اسٹریمنگ پورٹلز نے اس ملک کی کہانیوں کو اہمیت دیتے ہوئے، ان کی پروڈکشن شروع کی ہے۔ ہمیں اب تواتر کے ساتھ جنوبی کوریا کی ہر موضوع پر، ہر قسم کی فلمیں اور ویب سیریز دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ رواں برس ابھی تک جن کورین ویب سیریز کو بہت توجہ ملی، ان میں سے ایک یہ ویب سیریز "ہیرارکی” ہے، جس کی کہانی نئی نسل کے چند لاابالی نوجوانوں کے جذبات و احساسات کے گرد گھومتی ہے۔
طبقۂ اشرافیہ اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے اسکول کے طالبِ علم آپس میں بھڑ جاتے ہیں، یہ ویب سیریز ان کی کہانی کو بہت دھیمے لیکن عمدہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ اردو زبان میں اس ویب سیریز کا مفصل تجزیہ و تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔
مرکزی خیال/ اسکرپٹ
اس ویب سیریز کے نام سے ہی اس کے موضوع اور کہانی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ "ہیرارکی” انگریزی کا لفظ ہے، جس سے مراد وہ درجہ بندی یا تقسیم کا عمل ہے جو طاقت اور حیثیت کے بل بوتے پر ہوتی ہے۔ مذکورہ ویب سیریز کی کہانی جنوبی کوریا کے ایک ایسے فرضی اسکول "جوشین ہائی اسکول "سے متعلق ہے، جہاں پورے ملک سے صرف ایک فیصد طلبا کو داخلہ ملتا ہے اور ان سب کا تعلق اشرافیہ سے ہوتا ہے۔ ان میں سے معدودے چند کو اسکالر شپ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہے۔ اسکول میں امیر اور غریب کی تقسیم واضح ہے، جسے اسکول انتظامیہ کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اب ایسے ماحول میں یہ رئیس زادے اور بڑے کاروباری خاندانوں کے بچّے اپنے آگے کسی کو کچھ نہیں سمجھتے اور کوئی درجن بھر امیر ترین طلبا کیسے تعلیمی ادارے میں اقدار کو اپنے قدموں تلے روندتے ہیں، اس کہانی میں یہ دیکھنے کو ملتا ہے۔


پروڈکشن/ ڈائریکشن
اس ویب سیریز کا پروڈکشن ڈیزائن بہت خوب ہے۔ اسے جنوبی کوریا کے دس شہروں میں فلمایا گیا ہے اور سینماٹوگرافی بہت کمال ہے۔ ملبوسات، لائٹنگ، ایڈیٹنگ اور دیگر تکنیکی امور بخوبی انجام دیے گئے ہیں، البتہ میک اپ کے شعبے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کورین فلم ساز لڑکے لڑکی کا فرق مٹانا چاہتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں ان کا میک اپ اتنا اچھا نہیں ہوتا، خاص طور پر اس سیریز میں مرکزی کرداروں کا میک اپ اضافی معلوم ہوگا۔ اس سے کہانی میں تصنع کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ پس منظر میں موسیقی اور دیگر ضروری باتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ ویب سیریز دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہدایت کاری کے فرائض بھی بے ہیوجن نے بخوبی انجام دیے ہیں۔ اس کے موسیقار کم تائی سنگ ہیں۔ ان کی موسیقی نے کہانی کو چار چاند لگا دیے ہیں۔
اداکاری و دیگر پہلو
کہانی کچھ سست اور طویل محسوس ہوتی ہے۔ مکالمے بھی زیادہ جاندار نہیں، جس کی وجہ سے اداکاری پر فرق پڑا۔ خاص طور پر مرکزی کردار یعنی ہیرو اور ہیروئن، جن کے نام جونگ جے ای اور کم ری آن ہیں، ان کی اداکاری بہت یکسانیت کا شکار دکھائی دی۔ البتہ اس ویب سیریز کے معاون اداکاروں نے بھرپور طریقے سے اپنے کردار نبھائے، اور انہی کی وجہ سے مجموعی طور پر ویب سیریز دل چسپ ہوگئی، ورنہ ہیرو ہیروئن کی جذبات سے عاری اداکاری اس ویب سیریز کو لے ڈوبتی۔ کانگ ہا اس ویب سیریز کا وہ کردار ہے جس نے سب سے عمدہ اداکاری کی۔ یہ اسکول میں اسکالر شپ پر آنے والا طالبِ علم ہے جس کی وجہ سے ویب سیریز دل چسپ ہوگئی۔

ویب سیریز ہیرارکی کو 51 ممالک میں دیکھا گیا۔ یہ نیٹ فلیکس پر ٹاپ ٹین میں شامل رہی۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا میں بھی اسے بہت توجہ ملی، یہ کئی ہفتے ٹاپ ویب سیریز کی فہرست میں پہلی پوزیشن پر رہی اور منفی تبصروں کے باوجود اس نے نئی نسل کو اپنی طرف کھینچا اور لاکھوں ناظرین نے اس ویب سیریز کو دیکھا۔
حرفِ آخر
قارئین! اگر آپ رومان، تجسس اور تصورات کی دنیا میں جانا پسند کرتے ہیں اور کسی معاشرے میں طبقاتی تقسیم کے اثرات اور نئی نسل کے خیالات، ان کے جذبات کو جاننا چاہتے ہیں تو پھر یہ ویب سیریز آپ ہی کے لیے ہے۔ یہ بتاتا چلوں کہ کہانی شروع میں آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا کر سکتی ہے، لیکن دھیرے دھیرے یہ آپ کو اپنی جانب کھینچ لے گی اور آپ اسے آخر تک دیکھے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ نیٹ فلیکس پر یہ ویب سیریز ہندی ڈبنگ میں آپ کی منتظر ہے۔
خرّم سہیل صحافی، براڈ کاسٹر، مترجم، اردو زبان میں عالمی سینما کے ممتاز ناقد اور متعدد کتابوں کے مصنّف ہیں۔ وہ پاکستان جاپان لٹریچرفورم کے بانی بھی ہیں۔ انہیں سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ان کے نام سے فالو کیا جاسکتا ہے جب کہ بذریعہ ای میل [email protected] بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔





