The news is by your side.

Advertisement

ہائی بلڈ پریشر کا شکار افراد کو کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد کیا کرنا چاہیے؟

بیجنگ: چینی ماہرین نے حالیہ تحقیقی کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ہائی بلڈپریشر کی بیماری کا شکار افراد کو  کرونا کی تشخیص کے بعد احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل اور باقاعدگی سے ادویات کا استعمال کرنا چاہیے بصورت دیگر اُن کی ہلاکت کا خطرہ دگنا ہوجاتا ہے ۔

چین کے ماہرین نے کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں پر مطالعہ کیا جس کے نتائج یورپین ہارٹ جرنل جریدے میں شائع کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شی جیانگ اسپتال کے ماہرین کی زیرسرپرستی ہونے والی تحقیق میں ووہان کے 2 ہزار سے زائد مریضوں کا ڈیٹا جمع کر کے اُن کا تجزیہ کیا گیا۔

ماہرین نے اُن مریضوں کی تفصیلات جمع کیں جو 5 فروری سے پندرہ مارچ کے درمیان کرونا کی وجہ سے اسپتالوں میں زیر علاج رہے، ڈیٹا دیکھ کر ماہرین خود حیران رہ گئے کیونکہ متاثرہ مریضوں میں سے تیس فیصد مریض ایسے تھے جنہیں پہلے سے ہائی بلڈپریشر کی بیماری تھی۔

مزید پڑھیں: کرونا: صحت یاب مریضوں سے متعلق چینی ماہرین کا اہم دعویٰ

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے کرونا سے متاثرہ افراد کی میڈیکل ہسٹری جمع کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ہائی بلڈپریشر کی بیماری میں مبتلا افراد کی کرونا سے دیگر کے مقابلے میں زیادہ اموات ہوئیں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی عمر کے لوگ جو ہائی بلڈپریشر کا شکار ہیں کرونا کی وجہ سے اُن کی ہلاکت کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں دگنا ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی بلڈپریشر کی بیماری میں مبتلا چار فیصد وہ افراد جو کرونا سے متاثر ہوئے وہ دوران علاج انتقال کر گئے جبکہ کم  بلڈپریشر کی بیماری کا شکار افراد کی شرح صرف ایک فیصد رہی۔

ماہرین کا مشورہ

طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ وہ لوگ جنہیں ہائی بلڈپریشر کی شکایت ہے اور بالخصوص جو پچاس سال کی عمر سے زائد ہیں وہ کرونا کی علامات ظاہر ہونے  یا وائرس کی تشخیص کے بعد اس بات کا خیال رکھیں کہ انہیں دیگر کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ماہرین نے مشورہ دیا کہ ایسے تمام افراد کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے تحفظ کو یقینی بنائیں اور دوسروں سے زیادہ احتیاط کریں۔

یہ بھی پڑھیں: سنا مکی کے پتوں سے کرونا کا علاج ممکن؟

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہائی بلڈپریش کا شکار وہ مریض جو وبا کا شکار ہوئے اور انہوں نے ادویات استعمال نہیں کیں تو وائرس سے اُن کی ہلاکت کی شرح 8 فیصد رہی جبکہ جنہوں نے باقاعدگی سے دواؤں کا استعمال کیا اُن کی موت کی شرح پانچ فیصد کم رہی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں