The news is by your side.

Advertisement

فلم کے سیٹ پر شوکت اور ببّو کی نوک جھونک

فلم ساز شوکت حسین رضوی نے شوکت تھانوی کی ایک کہانی کو لے کر فلم ’گُلنار‘ بنانے کا اعلان کیا جس کی ہیروئن نورجہاں تھی۔ سیّد امتیاز علی تاج اس کے ہدایت کار تھے۔ ’گلنار‘ کا اسکرپٹ قدیم لکھنؤ کے پس منظر میں تیار کیا گیا تھا۔

اس کی کہانی مثنوی ’زہرِ عشق‘ سے اخذ کی گئی تھی۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ اس میں شوکت تھانوی بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے تھے اور بطور اداکار یہ اُن کی پہلی فلم تھی۔ اس سے پہلے وہ ریڈیائی ڈراموں میں بھی پارٹ لیا کرتے تھے۔ شوٹنگ کے دوران سیٹ پر ماحول پُر لطف رہتا تھا کیوں کہ شوکت تھانوی مزاحیہ گفتگو میں یکتا تھے۔

ناطق فلموں کے ابتدائی دور کی ہیروئن اور گلوکارہ ببّو اِس فلم میں ایک معمر خاتون کے روپ میں پیش ہوئی تھی جو ادبی ذوق رکھنے کے باعث حاضر جواب تھی۔ اُس میں مذاق کرنے اور مذاق سہنے کی صلاحیت تھی۔ دورانِ فرصت شوکت اور ببّو کی نوک جھونک سماں باندھ دیتی تھی۔

پھبتیوں کا دور چلتا اور کبھی کبھی مذاق ابتذال کی حد تک پہنچ جاتا تھا۔ امتیاز علی تاج سنجیدہ قسم کے انسان تھے، خاموش رہتے یا منہ پر رومال رکھ کر مسکراتے رہتے۔ بعض اوقات ایسی نوبت بھی آتی کہ اُنھیں اِدھر اُدھر ہو جانا پڑتا۔

(فلم نگری سے متعلق وشو ناتھ طاؤس کی یادوں سے ایک ورق)

Comments

یہ بھی پڑھیں