بھارتی ہندوؤں کی سازشیں، علی گڑھ یونیورسٹی کی مسلمان شناخت کو خطرہ
The news is by your side.

Advertisement

بھارتی ہندوؤں کی سازشیں، علی گڑھ یونیورسٹی کی مسلم شناخت کو خطرہ

نئی دہلی: بھارت میں واقع مسلمانوں کی قدیم درسگاہ ’علی گڑھ یونیورسٹی‘ کی شناخت خطرے میں پڑ گئی، سرکاری ادارے نے نچلی ذات کے ہندو شہریوں کو بھی زبردستی داخلہ دینے کا حکم جاری کردیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سرکاری قومی کمیشن نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ دلت اور دیگر ذاتوں سے تعلق رکھنے والے ہندو طالب علموں کو بھی علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ دیا جائے۔

سرکاری ادارے نے مطالبے پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں یونیورسٹی کے تمام فنڈز روکنے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔

علی گڑھ یونیورسٹی کا پس منظر

واضح رہے کہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے علاقے علی گڑھ میں سن 1875 میں سر سید احمد خان نے ’علی گڑھ یونیورسٹی‘ کا قیام کیا تھا بعد ازاں 1920 میں اس کو سرکاری سطح پر مسلمانوں کی تعلیمی درسگاہ کا ہونے کا اعزاز ملا تھا۔

مزید پڑھیں: علی گڑھ یونیورسٹی سے قائد اعظم کی تصویر غائب، طلبہ سراپا احتجاج

یہ بھی پڑھیں: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹل کے مینو سے گوشت کی ڈشز ہٹا دی گئیں

علی گڑھ یونیورسٹی کی مرکزی برانچ اترپردیش میں ہے علاوہ ازیں بھارتی ریاست کیرالہ، مغربی بنگال کے علاقے مرشدآباد اور بہار میں بھی اس کی شاخیں موجود ہیں جہاں مسلمان طالب علم تعلیم حاصل کرکے بھارت کی خدمت کرتے ہیں۔

متعصب ہندو انتہاء پسند تنظیم کی جانب سے دی جانے والی دھمکی اور شرط کے بعد ایک صدی سے زائد مسلمانوں کو تہذیب و ثقافت اور علمی فراہم کرنے والی مادرِ علم کی مسلم شناخت پر خطرات منڈلانے لگے۔

خیال رہے کہ سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ بھارتی کے قدیم اثاثوں پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے، اُن کے دورِ حکومت میں علی گڑھ یونیورسٹی کی مسلمان حیثیت کو بھی تسلیم کیا گیا تھا مگر بعد میں عدالت نے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیا تھا، یہ درخواست اب بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں