The news is by your side.

Advertisement

یورپ کا عیسائی اکثریتی ملک جہاں زبان میں عربی الفاظ بکثرت شامل ہیں

1964ء میں برطانوی پارلیمان نے قانونِ آزادی کے تحت مالٹا کو ریاست تو تسلیم کرلیا تھا، لیکن یہ ملک تاجِ‌ برطانیہ کا وفادار اور ملکہ کے زیرِ نگیں تھا، 1974ء میں مالٹا کو جمہوریہ کی حیثیت سے شناخت کیا جانے لگا۔

1813ء میں برطانیہ نے اس سرزمین کو اپنی کالونی بنایا تھا۔ یہاں کے باشندوں نے طویل جدوجہد اور جنگ کے بعد آزادی حاصل کی۔ بحیرۂ روم کے کنارے واقع مالٹا جزیرہ قدرتی حُسن اور تاریخی مقامات کی وجہ سے بھی دنیا میں‌ مشہور ہے۔ والیٹا اس کا دارالحکومت ہے۔

رقبے کے لحاظ سے مالٹا دنیا کے چھوٹے ممالک میں شامل ہے۔ اس جزیرے پر یونانی، رومن، بازنطینی، عرب، نارمن، ہسپانوی، فرانسیسی، اور برطانیہ کا راج رہا۔ ان اقوام کے رنگ مالٹا کی تہذیب و ثقافت سے جھلکتے ہیں اور تاریخ پر اس کے گہرے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس تہذیب اور ثقافت کا اثر خاص طور پر یہاں کے طرزِ‌ تعمیر سے نمایاں ہوتا ہے۔ مالٹا میں‌ کئی قدیم اور تاریخی مقامات موجود ہیں جو فن و ثقافت اور تاریخ کے شیدائیوں، سیروسیّاحت کے شوقین افراد کے لیے باعثِ کشش ہیں۔

مالٹا کی سرکاری زبان مالٹی (مالٹیز) اور انگریزی ہے جب کہ اس خطّے میں ہسپانوی، اطالوی، رومی اور برطانوی دور کے علاوہ عرب دور کے اثرات بھی نمایاں ہیں، لیکن زبان کی بات کی جائے تو یہ بات دل چسپی خالی نہیں‌ کہ مالٹیز زبان فرانسیسی، ہسپانوی اور اطالوی زبانوں کے زیرِ‌اثر نہیں‌ بلکہ یہ سامی زبان ہے اور عربی اور عبرانی کے گروپ سے اس کا تعلق ہے۔

مالٹا کے قدیم اور تاریخی علاقوں کے ناموں میں اب بھی لمدینہ (المدینہ)، غین طیبہ، غین الکبیرہ مشہور ہیں۔ عرب گیارھویں صدی تک یہاں‌ حکم راں رہے تھے اور بعد میں اس جزیرہ پر ہسپانیہ کے کیتھولک حکم راں غالب ہوگئے تھے۔ آج یہاں اکثریت عیسائی مذہب کی پیروکار ہے جب کہ مسلمان دو فی صد ہیں۔ تاہم مالٹیز زبان کا ڈھانچا عربی کا ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ یورپی اور انگریزی زبانوں کے الفاظ بھی شامل ہوگئے۔

مالٹا کو دنیا کا محفوظ اور پُرامن ملک بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی قدیم معبد اور دوسری تاریخی عمارتیں موجود ہیں جب کہ مختلف ادوار میں کھدائی کے دوران یہاں سے تہذیبی آثار اور قدیم اشیا و نوادرات بھی برآمد ہوئے ہیں‌ جو مقامی میوزیم کا حصّہ ہیں‌۔

Comments

یہ بھی پڑھیں