The news is by your side.

Advertisement

سموسہ برصغیر کیسے پہنچا؟ دلچسپ تاریخی حقائق

کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے پہلے سموسہ کس نے ایجاد کیا یا تاریخ میں اس کے منفرد نام کیا ہیں؟ ایسا نہیں کہ ایک ہی دن میں ایک شخص نے اس کو بنا لیا۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے جو سموسہ آج ہم کھاتے ہیں وہ کن اشکال سے ہوتا ہوا ہم تک پہنچا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سب سے پہلے ایران میں سموسے بنائے جاتے تھے اس کے بارے میں فارس کے مشہور مؤرخ ابوالفضل بیہحقی نے پہلی بار گیارہویں صدی میں اپنی کتاب تاریخِ بہیقی میں سموسوں کا ذکر کیا۔

سموسے کا تعلق بنیادی طور سے ایران کی قدیم سلطنت سے ہے۔ یہ تو نہیں معلوم کہ پہلی بار اسے تكونا کب بنایا گیا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کا نام سموسہ فارسی زبان کے سنبوساگ سے ماخوذ ہے۔

سموسہ بر صغیر اسی راستے پہنچا جس راستے سے دو ہزار برس پہلے آریائی نسل کے لوگ ہندوستان پہنچے تھے، سموسہ ہندوستان میں وسطی ایشیا کی پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے پہنچا۔ باہر سے آنے والے ان تارکین وطن نے ہندوستان میں کافی کچھ تبدیل کیا اور ساتھ ہی ساتھ سموسے کی شکل میں بھی کافی تبدیلیاں آئیں۔

 ابتداء میں برِصغیر میں ابنِ بطوطہ اور محمد بن تغلق سموسوں کو شوق سے کھایا کرتے تھے، اس کا ذکر کرتے ہوئے ابنِ بطوطہ بتاتے ہیں کہ سموسک یعنی سموسہ ان کی مرغوب ڈش ہے۔ جس میں قیمہ، بادام، پستہ اور اخروٹ بھرا جاتا تھا اور پلاؤ کے ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔

آئینِ اکبری میں سموسوں کو سنبوسہ کے نام سے پکارا گیا ہے، بنگلہ دیش میں چھوٹے اور فلیٹ سموسے نما ہوتے ہیں جن کو سموچہ کہا جاتا ہے۔ اس میں پیاز کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔

مشرقی بھارت میں ان کو شنگارا کہا جاتا ہے لیکن یہ میٹھے سموسے ہوتے ہیں۔ شمالی بھارت میں سموسوں میں آلو اور مٹر بھرے جاتے ہیں۔

پاکستان میں کاغذی سموسے، قیمے والے سموسے، آلو والے سموسے کھائے جاتے ہیں، کہیں بڑے سائز کے، کہیں زیادہ مرچوں والے، کہیں چنے بھرے سموسے بھی دسترخوانوں کی زینت بنائے جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں