The news is by your side.

Advertisement

خواتین کا موازنہ کرنے پر حمیمہ ملک کا مومنہ مستحسن سے اظہارِ ناراضی

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی مشہور اداکارہ حمیمہ ملک نے گلوکارہ مومنہ مستحسن کو موازنہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اہم مشورہ دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ہر لمحہ پرجوش میں گزشتہ شب دعا ملک اور حمیمہ ملک نے بطور مہمان شرکت کی، جنہوں نے میزبان وسیم بادامی کے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔

وسیم بادامی نے اپنے معصومانہ انداز سے دونوں بہنوں سے مختلف سوالات کیے، سیگمنٹ کے آغاز پر سب سے پہلے حجاب اور صوفی ازم کے  حوالے سے گفتگو ہوئی۔

حمیمہ ملک نے اس حوالے سے بتایا کہ دعا اور فیروز خان کو  مرشد ملے جنہوں نے اصلاحی تربیت کی اور اب دونوں اُسی راہ پر چل رہے ہیں جبکہ مجھے ڈاکٹر جاوید بطور مرشد ملے، جن کے بعد میری زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر جاوید سے ملاقات کے بعد مجھ میں ٹھہراؤ آیا، روحانی طور پر بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

ری ویو راؤنڈ میں میزبان وسیم بادامی نے دعا اور حمیمہ ملک کو مختلف شخصیات کی تصاویر دکھا کر مشورہ بھی مانگا۔ ایک موقع پر جب اسکرین پر گلوکارہ مومنہ مستحسن کی تصویر آئی اور وسیم بادامی نے دونوں سے مشورہ مانگا تو حمیمہ ملک نے خاموشی توڑی۔

حمیمہ ملک نے مومنہ مستحسن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’وہ بالخصوص پاکستانی اور دیگر خواتین کا کردار کی بنیاد پر موازنہ کرتی ہیں، مومنہ کی عادت کے حوالے سے یہ ایسا سچ ہے جس پر میں معذرت کرتی ہوں مگر میں اس پر ضرور بولوں گی‘۔

’میں ہوں، یہاں بیٹھی کوئی خاتون یا کوئی بھی ہو، ہر عورت کا اپنا مقام ہوتا ہے‘۔

اس موقع پر دعا ملک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری انڈسٹری میں جب سے نئی کھیپ آئی تو کچھ لوگ بدظن ہوئے کیونکہ نئے آنے والوں نے انگریزی اور کپڑوں کی بنیاد پر اپنی آرا پیش کر کے موازنہ کیا‘۔

دعا اور حمیمہ ملک نے اس سیگمنٹ میں سابق اداکارہ عائشہ خان، فیروز خان، عمران ہاشمی اور وزیراعظم عمران خان کو بھی مشورے دیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں