site
stats
انٹرٹینمںٹ

آسکرز 2017 کی ’غلطی‘ کی ترجمانی کرتی تصویر

رواں برس ہونے والی 89 ویں آسکر ایوارڈز کی تقریب اپنی ’شاندار غلطی‘ کی وجہ سے یادگار ہوگئی۔ تقریب میں ہونے والی یہ غلطی جس میں بہترین فلم کا ایوارڈ ’لا لا لینڈ‘ کو دے دیا گیا، اور پھر اس سے واپس لے کر ’مون لائٹ‘ کو دیا گیا، اب تک سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موضوع بحث ہے۔

معروف ہالی ووڈ اداکار وارن بیٹی نے جب بہترین فلم کے لیے لا لا لینڈ کے نام کا اعلان کیا، تو شائقین و حاضرین کو پہلے سے ہی اس کی توقع تھی۔

جب فلم کی کاسٹ اسٹیج پر آئی اور فلم کے 2 پروڈیوسرز نے اپنی تقریر کر ڈالی، تب ایک اور پروڈیوسر جارڈن ہوروٹز کو غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے صحیح فلم کا نام بتایا۔

بعد ازاں وارن بیٹی نے وضاحت کی کہ انہیں غلط لفافہ تھما دیا گیا تھا جو دارصل بہترین اداکارہ، ’ایما اسٹون ۔ لالا لینڈ‘ کا تھا۔

اس موقع پر ہچکچاہٹ، بے یقینی اور حیرت کے جذبات صرف اسٹیج پر موجود افراد کے ہی نہیں بلکہ ان سینکڑوں شرکا کے بھی تھے جو وہاں موجود تھے۔

سب ہی حیرت اور بے یقینی سے اسٹیج پر ہونے والی اس کارروائی کو دیکھ رہے تھے۔

امریکی اداکارہ بزی فلپس نے ایسی ہی ایک تصویر اپنے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’جب میں سو کر اٹھی تو میرے 4 ہزار قریبی دوست اس بارے میں مجھے پیغامات بھیج چکے تھے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس اس لمحے کا تصویری ثبوت موجود ہے جو یہ بتا رہا ہے کہ اس وقت وہاں پر موجود ہونا کیسا ہوتا‘۔

تصویر میں میرل اسٹریپ، سلمیٰ ہائیک، ڈوائن جانسن اور میٹ ڈیمن سمیت کئی افراد حیرت و بے یقینی میں مبتلا ہیں۔

ایسے ہی کچھ مزید تاثرات کو مختلف کیمروں نے اپنے اندر قید کرلیا۔

oscar-4

oscar-2

lala

oscar-5

oscar-7

ryan

oscar-8

oscar-6

oscar-3

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top