The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب واپس جانے کی امید جاگ اٹھی! گرین سگنل مل گیا

ریاض: سعودی حکومت سے استفسار کرنے والے غیرملکی کو مملکت واپسی کا گرین سگنل مل گیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مملکت میں محکمہ پاسپورٹ وامیگریشن(جوازات) سے ایک تارکین وطن نے آن لائن سوال کیا تھا کہ وہ خروج ونہائی(فائنل ایگزٹ) پر سعودی عرب سے لوٹا ہے، کیا کسی دوسرے ورک ویزے پر مملکت جاسکتا ہوں؟ جس پر متعلقہ ادارے نے مثبت جواب دیا۔

محکمہ کا کہنا ہے کہ اگر کوئی غیرملکی فائنل ویزے پر مملکت سے گیا اور اس کے خلاف کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی بھی نہ ہو تو وہ سعودی عرب کسی دوسرے ویزے پر آسکتا ہے۔

جوازات نے بتایا کہ اقامہ قوانین کے مطابق وہ غیر ملکی جو سعودی عرب میں اقامہ پر مقیم ہیں اگر وہ قانونی طور پر یعنی فائنل ایگزٹ ویزا(خروج ونہائی) لینے کے بعد مملکت سے جاتے ہیں اور ان کے خلاف سسٹم میں کوئی شکایت یا کیس درج نہ ہو تو ان کے لیے سعودی عرب کے دروازے کھلے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی قوانین کے تحت ڈی پورٹ کیے گئے شہریوں کو دوبارہ مملکت آنے کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر کوئی خروج عودہ ویزے پر جائے اور مقرر وقت پر نہ آئے تو اس پر بھی 3 سال پابندی لگا دی جاتی ہے۔

سفری پابندی کے شکار پاکستانیوں کیلئے سعودی عرب سے جواب آگیا

قبل ازیں سعودی محکمہ پاسپورٹ وامیگریشن(جوازات) سے ایک طبی امور کی کمپنی نے وضاحت طلب کی کہ ہمارے چند ملازمین جو پاکستانی ہیں سفری پابندی کے باعث مملکت نہیں لوٹ سکے ہیں اور ہمیں اس وقت ان کی ضرورت ہے، کیا انہیں سعودی عرب لانے کا کوئی طریقہ ہے؟۔

جوازات نے استفسار پر وضاحت پیش کی کہ کورونا وبا کے پیش نظر حکومت نے پاکستانی سمیت 9 ممالک پر سفری پابندی عائد رکھی ہے، فی الحال واپسی ممکن نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں