The news is by your side.

Advertisement

امریکی افواج کے اندر جنسی زیادتیوں کی شرح میں‌ ہولناک اضافہ

واشنگٹن : امریکا کی حکمران جماعت کی سینیٹر میک سیلی کا کہنا ہے کہ ’امریکی فضائیہ میں ملازمت کے دوران ائیر فورس کے اعلیٰ افسر نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا‘۔

تفسیلات کے مطابق امریکا کی حکمران جماعت ری پبلیکن پارٹی کی ریاست ایریزونا سے منتخب ہونے والی 52 سالہ سینیٹر میک سیلی نے امریکی افواج میں جنسی زیادتیوں کی شرح میں اضافے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے احساس شرمندگی، الجھن اور نظام پر بھروسہ نہ ہونےکے باعث جنسی زیادتی کی شکایت درج نہیں کروائی تھی‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 میں امریکی افواج میں جنسی زیادتی کے چھ ہزار آٹھ سو کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ گزشتہ امریکی فورسز کے اندر ریپ کیسز کی تعداد میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ  تعدادجنسی زیادتی کے ان کیسز کی ہے جو درج ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں متاثرین ایسے ہیں جو شرمندگی کے باعث رپورٹ ہی درج نہیں کرواتے۔

باون سالہ میک سیلی جنسی تشدد کا شکار ہونے والوں کے لیے سینٹ کی آرمڈ سروسز کی ذیلی کمیٹی میں سماعت کے دوران گفتگو کررہی تھیں۔

ریپبلیکن سینیٹر کا آرمڈ سروسز کی ذیلی کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آپ کی طرح میں میں آرمی میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی گئی لیکن ان متاثرین کی طرح بہادر نہیں ہوں جنہوں نے زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی لیکن میں کوئی شکایت درج نہیں کی ان خواتین و مرد کی طرح جنہیں سسٹم پر بھروسہ نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ میں خود کو قصور وار ٹہراتی ہوں میں شرمندہ اور الجھن کا شکار تھی، میں سینئر نے اپنی پوزیشن اور طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ میک سیلی امریکا کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ ہیں جنہوں نے جنگ میں حصّہ لیا ہے۔

سینیٹر میک سیلی نے 26 برس امریکی فضائیہ میں بحیثیت کرنل خدمات انجام دے کر سنہ 2010 ریٹائرمنٹ لی تھی، ریپبلیکن سینیٹر گزشتہ رکن سینیٹ منتخب ہونے سے قبل دو مرتبہ امریکی پارلیمنٹ کی رکن بھی منتخب ہوچکی ہیں۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ میک سیلی نے پہلی مرتبہ جنسی زیادتی پر گفتگو نہیں کی، گزشتہ برس سینیٹ کی انتخابی مہم کے دوران جنسی زیادتی کے متاثرین کے حوالے سے گفتگو کرچکی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں