The news is by your side.

منفرد ہوٹل جو آدھا آدھا 2 ملکوں میں ہے

کیا کسی جگہ کا بیک وقت دو ممالک میں ہونا ممکن ہے؟ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سرحدی اختلافات کو دیکھتے ہوئے ایسا مشکل لگتا ہے، لیکن پھر بھی ایک ہوٹل ایسا ہے جو سرحد کے بیچوں بیچ دو ممالک کے درمیان موجود ہے۔

دنیا میں ایک ایسا ہوٹل بھی موجود ہے جہاں آپ بیک وقت دو ملکوں میں موجود ہوتے ہوئے سو سکتے ہیں۔

یہ ہوٹل فرانس اور سوئٹزرلینڈ کے سرحدی علاقے لاکیور میں قائم ہوٹل اربیز ہے۔

یہ ہوٹل ایک ایسی منفرد جگہ پر قائم ہے جس کے اندر سے ہی فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحدیں گزرتی ہیں، اسی وجہ سے یہ دنیا کا واحد ہوٹل ہے جو ایک ساتھ دو ممالک میں واقع ہے۔

اس ہوٹل کے منفرد مقام کی وجہ 1862 میں فرانس اور سوئٹزر لینڈ کے درمیان ہونے والا ایک سرحدی معاہدہ ہے جسے ٹریٹی آف ڈیپس کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے میں فرانس اور سوئٹزر لینڈ نے سرحدی علاقے کی قریبی سڑک کا مکمل کنٹرول فرانس کو دینے کے لیے ایک چھوٹے سے علاقے کے تبادلے پر اتفاق کیا، معاہدے میں یہ بھی طے ہوا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ سرحدی علاقے پر قائم عمارتیں اپنے مقام پر ہی موجود رہیں گی۔

ایسی صورتحال میں ایک مقامی کاروباری شخص نے سرحدی علاقے سے فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر ایک دکان اور بار کھولا جسے 1921 میں ایک مکمل ہوٹل اربیز میں تبدیل کردیا گیا۔

دونوں ممالک کی سرحد پر ہوٹل قائم کرنے کی وجہ سے اس ہوٹل کا آدھا حصہ فرانس اور آدھا سوئٹزر لینڈ میں ہے، سیاح ایک ہوٹل میں قیام کرتے ہوئے بیک وقت 2 ملکوں میں موجود ہوتے ہیں۔

اس ہوٹل کے کچھ کمرے ایسے بھی ہیں کہ اس کا آدھا حصہ فرانس اور آدھا سوئٹزر لینڈ میں ہے، اسی وجہ سے اگر مہمان ان کمروں میں سوئے تو ان کا سر سوئٹزر لینڈ اور ٹانگیں فرانس میں ہوتی ہیں۔

دو ملکوں کی سرحد پر قائم ہونے کی وجہ سے اس ہوٹل میں فرانس اور سوئٹزر لینڈ دونوں کی کرنسی قابل قبول ہے جبکہ ہوٹل کے دونوں ملکوں کے لیے الگ الگ فون نمبرز ہیں۔

ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے فرانس اور سوئٹزر لینڈ دونوں جگہ کا ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔

ہوٹل کے فرانسیسی حصے میں فرانسیسی کھانے جبکہ سوئٹزر لینڈ والے حصے میں سوئس کھانے ہی مہمانوں کو پیش کیے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں ہوٹل میں دونوں ممالک کی نشاندہی کرنے کے لیے فرانسیسی اور سوئس جھنڈے بھی لگائے گئے ہیں تاکہ مہمانوں کو اندازہ ہوسکے کہ وہ ہوٹل میں رہتے ہوئے کس ملک میں موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں