The news is by your side.

Advertisement

حوثی ملیشیا کا ہزاروں کی تعداد میں سعودی فوجی گرفتار کرنے کا دعویٰ

صنعاء : ترجمان حوثی ملیشیا کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران سعودی فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور تین بریگیڈز کوبھی تباہ کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے ہزاروں کی تعداد میں سعودی فوجیوں کو پکڑنے کا دعوی کیا ہے اورکہاہے کہ ڈرون، میزائل اور فضائی دفاعی نظام کی مدد سے کیے جانے والے حملے میں دشمن فوج کی تین بریگیڈز کو تباہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران سعودی فوج کو بھاری جانی نقصان بھی ہواجبکہ گرفتار کیے گئے سعودی فوجیوں کو سعودی فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہےادھرسعودی حکام کی جانب سے تاحال حوثی باغیوں کے دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں کے ترجمان نے دعوی کیا کہ انہوں نے سعودی قصبے نجران کے قریب بڑی کارروائی کرتے ہوئے سعودی فوجیوں کو حراست میں لیا، کارروائی کے دوران سعودی فوج کو بھاری جانی نقصان بھی ہوا۔

حوثی باغیوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون، میزائل اور فضائی دفاعی نظام کی مدد سے کیے جانے والے حملے میں دشمن فوج کی تین بریگیڈز کو تباہ کیا گیا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ گرفتار کیے گئے سعودی فوجیوں میں بڑی تعداد میں سعودی افسران بھی شامل ہیں جب کہ سعودی فوج کے زیر استعمال بکتر بند گاڑیوں کو بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے سعودی فوجیوں کو سعودی فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے،سعودی حکام کی جانب سے تاحال حوثی باغیوں کے دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں یمنی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور 14 ستمبر کو سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی حوثی باغیوں نے قبول کی تھی تاہم سعودی عرب اور امریکا نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔

سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی تو سعودی عرب اس کے خلاف کارروائی کرے گا جب کہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب یا امریکا نے حملے کی کوشش کی تو پھر مکمل جنگ ہو گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں