The news is by your side.

حملہ آور نے کیسے عمران خان کو نشانہ بنایا؟ ابتسام نے سب بتا دیا

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی کوشش کو ناکام بنانے والے کارکن ابتسام حسن نے مزید تفصیلات بتا دیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں خصوصی گفتگو میں ابتسام حسن نے بتایا کہ جس حمل آور کا بیان چل رہا ہے وہ وہی ہے جسے میں نے پکڑا، میں کنٹینر سے کچھ فاصلے پر تھا، ملزم کو اسلحہ نکالتے دیکھا تو پکڑنے کی کوشش کی، ملزم نے کنٹینر کی طرف نشانہ لگایا اور ایک گولی چلا دی تھی۔

ابتسام حسن نے بتایا: ’پہلی گولی عمران خان کو لگی اس کے بعد میں نے ملزم کو قابو کرنے کی کوشش کی تو برسٹ چلا جس سے قریب ایک شخص کو گولی لی۔ ملزم کے پاس چھوٹا اسلحہ تھا اس لیے پہلے نظروں میں نہیں آیا، اس کے پاس خود ساختہ اسلحہ تھا کیوں کہ ری لوڈ نہیں کرنا پڑا۔‘

کارکن نے بتایا کہ ملزم کو جب پکڑا تو اس کی جیکٹ میرے ہاتھ میں آگئی تھی، پہلی گولی کٹینر کی طرف چلی باقی گولیوں کا رخ کنٹینر کی طرف نہیں تھا، ملزم نے فائرنگ کرنے کے بعد فرار کی کوشش کی، ملزم بھاگا تو میں بھی اس کے پیچھے بھاگ اور قابو کرنے کی کوشش کی۔

ابتسام نے مزید بتایا کہ حملہ آورکو پکڑ لیا تو اس کے بعد پولیس اہلکار بھی آگئے اور اسے ساتھ لے گئے، حملہ آور کے پاس بہت گولیاں تھیں، وہ مکمل تیاری کے ساتھ آیا تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ عمران خان کے لیے جان بھی دینے کو تیار ہیں، عمران خان پھر بھی زخمی ہوئے جس پر شرمندہ ہوں کہ کیوں نہیں بچا سکا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں