site
stats
صحت

کس عمر کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے رات کے کتنے گھنٹے کی نیند کسی بھی عمر کے شخص کے لیے ضروری ہے؟ اس بات کو جاننے کے لیے ماہرین نے سر جوڑا اور پھر تحقیق کی صورت میں نتیجہ پیش کردیا۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں نیند کی کمی سے متعلق طبی تحقیقات کی گئیں جن میں یہ بات ثابت ہوئی کہ اگر کسی شخص کی نیند پوری نہیں ہوتی تو وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

امریکی ادارے سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول میں ہونے والی تحقیق کے مطابق جن لوگوں کی بالخصوص رات کی نیند پوری نہیں ہوتی انہیں دل کے امراض سمیت متعدد بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں‘۔

پڑھیں: پرسکون نیند کے لیے 5 غذائیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’رات کی نیند انسان کے لیے بے حد ضروری ہے تاہم 40 فیصد نوجوان ایسے ہیں جنہیں رات میں نیند پوری نہ ہونے کی شکایت رہتی ہے‘۔

تحقیق کا موضوع  تھا کہ کس عمر کے شخص کو کتنی نیند کی ضرورت ہے؟۔

تین ماہ تک کے بچے

ماہرین کے مطابق پیدائش سے تین ماہ تک کے بچے کے لیے 24 گھنٹوں میں سے 14 سے 17 گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔

چار ماہ سے 11 ماہ 

اسی طرح 4 سے 11 ماہ تک کے بچے کے لیے دن کے 12 سے 15 گھنٹے جبکہ 1 سے 2 سال کی عمر کے بچوں کے لیے دن کے 11 سے 14 گھنٹے تک کی نیند بے حد ضروری ہے۔

تین سال سے 13 سال تک

وہ بچے جو اسکول جاتے ہیں اور جن کی عمریں 3 سے 5 سال کے درمیان ہیں انہیں روزانہ 10 سے 13 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے جبکہ 6 سے 13 سال کی عمروں کے بچوں کے لیے دن کے 10 سے 13 گھنٹوں کی نیند بے حد ضروری ہے۔

دس سال سے 25 سال تک

دس سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے 8 سے 10 گھنٹے جبکہ 18 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں کو 7 سے 9 گھنٹے کی نیند درکار ہوتی ہے۔

26 سال سے 64 برس تک

ماہرین کا کہنا ہے کہ 26 سے 64 برس تک کی عمر کے حضرات کو 7 سے 9 گھنٹے جبکہ بزرگ خواتین اور مردوں کو دن کے 7 سے 8 گھنٹے تک نیند پوری کرنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق نیند پوری کرنا ہر شخص کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق انسان کی صحت سے ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ اپنی رات کی نیند پوری نہیں کرتے وہ اعصابی طور پر کمزور ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top