The news is by your side.

Advertisement

"منکی پاکس” کیسے پھیلتا ہے؟ اہم معلومات

کورونا کے بعد دنیا میں دہشت پھیلانے والے "منکی پاکس” کی متاثرہ شخص سے دوسرے انسان میں منتقلی اور علامات سے متعلق عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو آگاہ کردیا ہے۔

کورونا کے بعد دنیا میں دہشت پھیلانے والے "منکی پاکس” سے افریقہ کے بعد یورپ اور شمالی امریکا کے کئی ممالک متاثر ہوچکے ہیں جس کےبعد دنیا بھر میں اس حوالے سے تشویش گہری ہوگئی ہے اور حکومتوں نے اس سے بچاؤ کے لیے پیشگی اقدامات کرنا شروع کردیے ہیں تاکہ ممکنہ طور پر کورونا جیسے حالات سے بچا جاسکے۔

منکی پاکس کی علامات کیا ہیں اور کیا اس بیماری کا وائرس متاثرہ شخص سے دوسرے صحت مند شخص کو منتقل ہوسکتا ہے، اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو آگاہ کردیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او، کے مطابق انسانوں میں وائرس کی منتقلی سے لے کر انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 6 سے 13 دن کے قریب ہے۔ اس عرصے کے بعد نمودار ہونے والی علامات میں چہرے اور سارے جسم پر مخصوص طرز کے دانے نکلنے کے ساتھ ساتھ بخار، گلے میں سوزش اور لمفی غدود میں ورم ہونا شامل ہے۔ افریقہ میں ماضی میں پھیلنے والی وباؤں میں بیماری سے جانبر نہ ہونے والوں کی شرح چند فیصد سے لے کر 10 فیصد کے لگ بھگ دیکھی گئی ہے۔

چوہے، گلہری یا کسی دوسرے متاثرہ جانور کے کاٹنے سے انسان کو منکی پوکس وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ متاثرہ جانور یا انسان کے جسم کے دانوں یا خون یا جسم سے نکلنے والے دیگر مواد کو چھونے سے بھی وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔ سانس لینے سے فضا میں خارج ہونے والی چھوٹے آبی بخارات کے ذریعے بھی یہ وائرس ایک سے دوسرے انسان کو منتقل ہونے کا امکان ہے۔

تاہم، ڈبلیو ایچ او کے مطابق، ایک انسان سے دوسرے انسان کو انفیکشن ہونے کے امکانات کافی کم ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وائرس منتقل ہونے کا امکان متاثرہ شخص سے قریبی رابطہ رکھنے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے متاثرہ افراد کا جلد پتہ چلانے اور ان سے قریبی رابطے میں رہنے والے افراد کے بارے میں فوری معلومات حاصل کرنے کی غرض سے تمام رکن ملکوں پر اقدامات اٹھانے کے لیے زور دیا ہے۔

یہاں آپ کو یہ دلچسپ بات بتاتے چلیں کہ جاپان کے قومی ادارہ برائے متعدی امراض کے مطابق دنیا میں منکی پاکس وائرس کی سب سے پہلی تصدیق 1958 میں ہوگئی تھی تاہم اس بیماری سے اس وقت کوئی انسان نہیں بلکہ جانور متاثر ہوئے تھے۔

مذکورہ ادارے کے مطابق بیرون ملک واقع ایک تحقیقی مرکز میں کیکڑے کھانے والے مکاک کے نام سے پہچانے والے بندروں میں 1958 میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اور اسی مناسبت سے اب اسے منکی پاکس کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرکز میں دنیا بھر سے بندروں، لنگوروں، بن مانسوں وغیرہ کے گروپ سے تعلق رکھنے والے دودھ پلانے والے جانوروں کو رکھا گیا تھا اور یہاں پولیو کی ویکسین بنانے کے سلسلے میں تحقیق کی جا رہی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں