The news is by your side.

Advertisement

امتحانات کی تیاری کیسے کریں؟ طلبا کے ذہنوں میں سوالات

ملک بھر میں نویں سے بارہویں جماعت کے بورڈ کے امتحانات قریب ہیں، اے، اے ایس اور او لیول امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے، جب کہ نیشنل بورڈ کے امتحانات نئے شیڈول کے مطابق ہوں گے، لیکن ایسے میں طلبہ مختلف سوالات سے پریشان ہیں، بالخصوص یہ کہ امتحانات کی تیاری کیسے کریں، اس سلسلے میں ماہر تعلیم علی معین نوازش نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام شام رمضان میں اہم گفتگو کی۔

کرونا وبا نے جس طرح تعلیمی سلسلے کو متاثر کیا ہے، اس میں طلبہ کافی پریشان ہیں، کہ امتحانات کیسے ہوں گے، اگر امتحانات ہوں گے تو تیاری کیسے کریں گے، کیوں کہ آن لائن تیاری بہت مشکل ہو سکتی ہے، اس سلسلے میں طلبہ کے ذہنوں میں کئی طرح کے سوالات گردش کر رہے ہوں گے۔

ماہر تعلیم علی معین نوازش نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ اس وقت دو قسم کی نا انصافیاں ہو رہی ہیں، ایک تو یہ کہ جیسا کہ پچھلے برس پورے پاکستان میں سال بھر کبھی اسکول کھلے کبھی بند ہوئے، آن لائن کلاسز کے یہاں بہت سارے مسائل رہے، اس میں معاملہ یکساں نہیں تھا، جن بچوں کے پاس وسائل زیادہ تھے وہ آن لائن پڑھ سکے، انھوں نے پرائیویٹ ٹیوشنز بھی لیں، لیکن جن بچوں کے پاس وسائل کم تھے ان کے ساتھ زیادہ ناانصافی ہوئی، اسکول جو ان کا واحد ذریعہ تھا وہاں سے وہ پڑھ نہ سکے۔

دوسرا یہ کہ کرونا وائرس کی وبا ایک بار پھر جو اتنی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے میں اتنے سارے بچوں کو جمع کرنا اور پھر انھیں واپس بھیجنا ایک بہت بڑا رسک ہے، اور ہم عام طور پر جو ایک اہم بات نظر انداز کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ وبا کی صورت حال کی وجہ سے طلبہ کے ذہنوں پر کیا اثر مرتب ہو رہا ہوگا، ان کی ذہنی صحت کیسی ہوگی، ان کے ذہنوں کی حالت کیا ہوگی، تو اگر انھیں اسی طرح لیا جائے گا جیسا کہ گزشتہ برس لیا گیا تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہوگی، اور اگر کسی طالب علم کو کرونا ہو گیا تو یہ بھی ایک ذہنی دباؤ کی صورت ہے۔

اگر طلبہ میں کسی کو کرونا لاحق ہو جائے تو پھر کیا ہوگا؟ اس حوالے سے علی معین نے بتایا کہ ہر سبجیکٹ کے متعدد پیپرز ہوتے ہیں، تو اگر بچوں نے کچھ اجزا کے امتحان دیے ہوں گے اور اس کے بعد انھیں کرونا لاحق ہو اور وہ پیپر نہ دے سکیں تو انھیں گریڈ دیا جائے گا، لیکن وہ بچے جو بالکل ہی کسی سبجیکٹ کے تمام اجزا نہیں دے پائیں گے تو انھیں گریڈ نہیں دیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ تمام وضاحت اے او لیول کے حساب سے ہے۔

بورڈ کے طلبہ کیا کریں گے؟ اگر امتحانات کے دوران کسی بچے کو کرونا ہو جائے تو کیا اس کا سال ضائع نہیں ہو جائے گا؟ اس حوالے سے کوئی پالیسی بھی نہیں بنی۔ علی معین کا کہنا تھا کہ طلبہ کو ہر لحاظ سے وضاحت چاہیے، جیسا کہ اسد عمر نے کہا کہ اگر لوگوں نے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا تو ہمیں شہر بند کرنے پڑیں گے، تو اگر شہر بند ہو گئے تو پھر اے او لیول کے جو امتحانات ہیں ان کا کیا ہوگا؟ وہ طلبہ جنھوں نے یونی ورسٹیز جانا ہے، جن کا مستقبل ہے اور کچھ طلبہ جو پچھلے برس امتحانات نہ دے سکے، کیا وہ اس سال بھی نہیں دے پائیں گے اور ان کا ایک اور سال ضائع ہوگا؟

گریڈز کے حولے سے انھوں نے کہا کہ جو پرفیشنلزم ترقی یافتہ ممالک میں ملتی ہی وہ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں نہیں ہے، گریڈز بھجوانے والے ٹیچرز کو بہت مسائل تھے، بعد میں پالیسی تبدیل کی گئی، پہلے انھوں نے الگوریتھم سے کیا پھر ٹیچرز کے اسسٹ گریڈز کیے، اس میں بھی بہت سارے طلبہ کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، تو پرفیکٹ حل تو نہیں ہے، لیکن اس دفعہ جو مجھے نظر آ رہا ہے اور مجھے یہ بات پریشان کر رہی ہے کہ ایک طرح سے طلبہ کو الزام دیا جا رہا ہے کہ انھوں نے پڑھا نہیں، ان کے مطالبے غلط ہیں یا انھوں نے چھٹیاں کیں۔

اگر امتحانات کے دوران کسی بچے کو کرونا ہو جائے تو اس سلسلے میں وزارت صحت نے کوئی پالیسی نہیں بنائی، علی معین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں ہوئی ہے اب تک، اور اس میں وضاحت کی بہت ضرورت ہے کیوں کہ اگر کوئی بچہ کرونا سے متاثر ہوگا اور اسے اپنے مستقبل کا پتا نہیں ہوگا تو ہو سکتا ہے کہ وہ رسک لے، اور وہ سال ضائع ہونے کے خوف سے امتحان دینے چلا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں