The news is by your side.

Advertisement

مچھلی کیسے پالیں؟

بچپن میں‌ یہ عام خیال ہوتا ہے کہ مچھلی پالنا بہت آسان ہے، گلی میں ریڑھی پر شیشے کے جار میں‌ مچھلی لا کر بیچنے والے سے مچھلی خریدتے تھے اور گھر لا کر کسی برتن یا شیشے کے جار میں‌ پانی میں چھوڑ دیتے، اور اگلے دن وہ مری ہوئی ہوئی حالت میں ملتی۔

دراصل مچھلی پالنے سے پہلے کن باتوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے، یہ جاننا بہت ضروری ہے، تھوڑی سی لاپرواہی سے بھی مچھلی بیمار ہو کر مر جاتی ہے، اسے صحت مند رکھنے کے لیے صحیح مقدار اور صحیح وقت پر کھانا دینا اور ایکویریم کی باقاعدگی سے صفائی ضروری ہے۔

اگر آپ بڑے باکس کے سائز کے شیشے کے ایکویریم کا استعمال کر رہے ہیں تو، ایکویریم تمام سہولیات جیسا کہ فلٹر اور ہیٹر وغیرہ سے لیس ہو، پانی کی صفائی کے لیے فلٹر بہت ضروری ہے، یہ بازار میں دستیاب ہوتے ہیں۔

ایکویریم میں مناسب ہیٹر اور لائٹ لگائیں، تاکہ پانی کا درجہ حرارت کنٹرول میں رہے اور اس میں مناسب روشنی ہو، براہ راست سورج کی روشنی میں نہ رکھیں۔

مچھلی کی لمبی عمر کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے ایکویریم کے پانی کو تبدیل کرتے رہیں، مہینے میں ایک بار ایکویریم کی مکمل صفائی اور تمام مچھلیوں کو باہر رکھنا بھی بہت اہم ہے۔

ایکویریم میں سجاوٹی سامان نوکیلا نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ مچھلی کی جلد بہت نازک ہوتی ہے۔ ایک ہی سائز اور ایک ہی قسم کی مچھلیوں کو ایک ساتھ رکھیں، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کون سی مچھلی نمکین اور کون سی میٹھے پانی میں رہ سکتی ہے۔

کچھ مچھلیاں پرسکون ہوتی ہیں، کچھ شرارتی اور کچھ پرتشدد، جو ایکویریم میں موجود دوسری مچھلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، چھوٹے ایکویریم کے لیے گولڈن فش، نیین ٹیٹراس، زیبرا فش اور گورامیز عام طور پر بہتر سمجھی جاتی ہیں۔

ہمیشہ مچھلیوں کو جوڑے کی صورت میں خریدیں، مچھلی کو دن میں دو بار سے زیادہ کھانا نہ کھلائیں، اضافی خوراک انھیں بیمار کر سکتی ہے، یہ دیکھتے رہیں کہ مچھلی مسلسل تیر رہی ہے یا نہیں، کہیں ان میں کوئی داغ تو نہیں آیا، ایسا ہو تو اسے فوراً دوسری مچھلیوں سے علیحدہ کر لیں، وہ بیمار ہے۔

ایکویریم میں اصلی پودے بھی اگائے جا سکتے ہیں لیکن پھر انھیں دن میں کم از کم 12 گھنٹے سورج کی روشنی کی ضرورت ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں