The news is by your side.

Advertisement

ناپسندیدہ دفتری ساتھیوں کے ساتھ کیسے کام کیا جائے؟

نوکری یا ملازمت ایک ایسی زنجیر ہے جس میں آپ کو ناپسندیدہ ماحول، چیزوں اور کاموں کے ساتھ ساتھ ناپسندیدہ افراد کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

آپ کا دفتری ساتھی تمیز سے بات نہ کرتا ہو، کھاتے ہوئے منہ چلاتا ہو یا ہر وقت کھاتا ہو، فون پر زور سے بات کرتا ہو یا بے محل مذاق کر کے خود کو مزاحیہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہو، آپ لاکھ چاہنے کے باوجود بھی اس سے چھٹکارہ نہیں پاسکتے اور بعض اوقات ان سے دور ہو کر بھی ان کے بارے میں سوچ سوچ کر آپ کا خون کھولتا رہتا ہوگا۔

تو پھر ایسا کیا کیا جائے کہ ایسے لوگ آپ کے اعصاب پر سوار بھی نہ ہوں، اور آپ اپنا کام بھی سکون سے سرانجام دیتے رہیں؟

ویسے بھی ملازمت پیشہ افراد اپنا بیداری کا زیادہ وقت دفتر میں گزارتے ہیں لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ ناپسندیدہ دفتری ساتھی آپ کی زندگی کو عذاب بنا رہا ہوتا ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

آج ہم آپ کو ایسے ہی کچھ طریقے بتانے جارہے ہیں جنہیں اپنا کر آپ اپنے ناپسندیدہ ساتھی کو ہینڈل کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: زندگی کو بدمزہ بنانے والے ناپسندیدہ افراد سے جان چھڑائیں

مشکل کا سامنا کریں

بعض افراد ناپسندیدہ ساتھیوں سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ان سے کم سے کم بات کی جائے۔ بعض افراد اس کے برعکس کام کرتے ہیں اور ناپسندیدہ افراد سے زیادہ بات کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنے لیے قابل قبول بنا سکیں۔

تاہم دونوں صورتوں میں آپ ایک طویل عرصے بعد اسی جگہ پر موجود ہوتے ہیں اور وہ شخص بدستور  آپ کے لیے ناپسندیدہ ہوتا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس شخص کو بتائیں کہ آپ کو اس کی کیا چیز اور کون سا عمل پسند نہیں۔ ممکن ہے اگلی بار وہ اس عمل کو آپ کے سامنے دہرانے سے گریز کرے۔

غلط اندازے قائم نہ کریں

بہت سی ناپسندیدگیاں اور نفرتیں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں۔ اس بات کو اس مثال سے سمجھیں۔

علی ایک نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذہین اور قابل شخص تھا۔ نئی ملازمت پر ادارے کی طرف سے اسے ایک کانفرنس میں بھیجا گیا، علی نے سوچا کہ وہ فی الحال خاموش رہ کر تمام چیزوں کا مشاہدہ کرے گا، لوگوں کو جانے گا اور تجربہ کار لوگوں سے سیکھے گا۔

کانفرنس میں اس نے یہی کیا اور کسی سے زیادہ بات چیت نہیں کی نہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دوسری جانب کانفرنس کے شرکا اس کی ذہانت و قابلیت کے بارے میں سن چکے تھے اور وہ پرجوش تھے کہ وہ ایک ذہین شخص سے ملاقات کریں گے۔

لیکن جب انہوں نے علی کا لیا دیا انداز دیکھا تو انہوں نے اسے مغرور سمجھا اور سوچا کہ شاید وہ انہیں اپنے سے کمتر سمجھتا ہے۔

اسی مقام سے ناپسندیدگی اور نفرت کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر علی لوگوں سے ملتا، اور انہیں بتاتا کہ اس کی کیا حکمت عملی ہے تو یقیناً اسے مزید پسند کیا جاتا اور لوگ اس کی ذہانت کے مزید قائل ہوجاتے۔

مقابل کا نظریہ جانیں

کسی تعلق کو بہتر بنانے کے لیے اپنے مدمقابل کے خیالات و نظریات جانیں، ان کی بات ختم ہونے کے بعد ان کی کہی ہوئی بات کو خلاصے کی صورت میں دہرائیں۔ یہ عمل دوسرے شخص کے دل میں آپ کے لیے قدر اور احترام کا جذبہ پیدا کرے گا کہ آپ نے اس کی بات سنی، سمجھی اور اسے اہمیت دی۔

جب بھی دو لوگ کھلے دماغ سے ایک دوسرے کو سنتے ہیں، ایک دوسرے کے خیالات کا احترام کرتے ہیں اور اپنی کمیونیکیشن کو بہتر بناتے ہیں تو ان کا تعلق ایک بہتر صورت اختیار کرلیتا ہے اور اس میں نفرت یا ناپسندیدگی کا امکان کم سے کم ہوجاتا ہے۔

یاد رکھیں، آپ کو ایک ناپسندیدہ شخص کو پسندیدہ سمجھنے پر اپنے آپ کو مجبور نہیں کرنا بلکہ صرف اسے اپنے لیے قابل قبول بنانا ہے تاکہ آپ اپنی توانائی منفی خیالات و جذبات سے سے بچا کر زیادہ سے زیادہ تعمیری کاموں میں صرف کریں۔

اور ہاں، اگر آپ کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جو دفتر کے تمام ہی ساتھیوں کو ناپسند کرتے ہیں، ان خاتون کی طرح جنہوں نے اپنے دفتری ساتھیوں کو یہ بتایا تھا کہ اس کی ایک جڑواں بہن بھی ہے تاکہ دفتر کے ساتھی اسے کہیں بھی دفتر سے باہر ملیں تو وہ باآسانی انہیں نظر انداز کر کے گزر جائے اور ان سے سلام دعا نہ کرنی پڑے، تو پھر مندرجہ بالا تمام طریقے آپ کے لیے بے فائدہ ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں