The news is by your side.

Advertisement

تونکات علی کا قہوہ بزرگوں کے لیے کتنا مفید ہے؟

قہوہ یا ہربل ٹی میں ہر ملک اپنی انفرادیت قائم رکھتا ہے لیکن تونکات علی ایسی جڑی بوٹی ہے جس کا قہوہ پابندی سے استعمال کیا جائے تو وہ نہ صرف متعدد بیماریوں سے بچاتا ہے بلکہ بڑھا بھی نہیں ہونے دیتا۔

ویسے بھی قدرت نے ہر ملک کو ہی ایسی جڑی بوٹیوں کی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے جس کا استعمال نہ صرف بیماریوں سے شفا دیتا ہے بلکہ ان کا استعمال انسانی جسم کو متناسب اور خوبصورتی کو برقرار رکھنے کےلیے بھی کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر کے ممالک میں جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں ملائشیا اور انڈویشیا جڑی بوٹیوں سے مالا مال ملک ہیں جہاں صدیوں سے روائتی انداز میں ہربل قہووں کا راج ہے لیکن ملائشیا میں پائی جانے والی تونکات علی نامی ایسی جڑی بوٹی ہے جس کے بے پناہ فوائد ہیں۔

حکیموں کا کہنا ہے کہ تونکات علی کا استعمال انسانی جسم میں پیدا ہونے والی بے شمار بیماریو سے شفا دیتا ہے اور اس جڑی بوٹی کی جڑوں کو گرم پانی میں ابال کر پیا جاتا ہے۔

متعدد حکیموں کا ماننا ہے کہ اگر تونکات علی جڑی بوٹی کا استعمال قہوے کی صورت میں کیا جائے تو وہ آپ کو کبھی بوڑھا نہیں ہونے دے گی یعنی بڑھاپے میں بھی جسم کو چشت و توانا رکھتی ہے۔

گردوں کے ایسے مریض جن کو پتھری ہو انہیں لازمی یہ قہوہ پلایا جاتا ہے اور تو اور یہ بوٹی اعصاب کی کمزوری میں مبتلا افراد کو بے پناہ فائدہ پہنچاتی ہے۔

حکیموں کے مطابق تونکات علی کا استعمال مردانہ قوت میں اضافے کےلیے بھی کیا جاتا ہے جبکہ شوگر کے مریض اگر اسے معمول بنالیں ان کی ذیابطیس لیول کنٹرول میں رہے گا۔

آج کل ملیریا کی بیماری پاکستان میں بہت عام ہوگئی ہے، ماہرین حکمت کا ماننا ہے کہ یہ نایاب جڑی بوٹی ملیریا کا بہترین علاج ہے۔

تونکات علی یوں تو بے شمار فوائد ہیں لیکن دو مزید فوائد یہ ہیں کہ خون کی گردش کو معمول رکھتا ہے اور خواتین کے ہارمونز کی گروتھ کو بڑھانے کا کام کرتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملائیشیا اور انڈونیشیا کی خواتین ہارمونز کی گروتھ بڑھانے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔

نوٹ : پیچیدہ امراض میں مبتلا افراد ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں