spot_img

تازہ ترین

پنجاب اور سندھ کے حکمران کون؟ وزرائے اعلیٰ کا انتخاب آج ہوگا

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور صوبہ...

ایوان صدر سازشوں کا گڑھ بنا ہوا ہے، عطا تارڑ

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ کا...

پیپلز پارٹی کے اویس شاہ اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب

پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اویس شاہ اسپیکر...

بیرسٹر گوہر اور شیر افضل مروت میں صلح ہوگئی

لاہور: پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور...

ملک کے 14ویں صدر کا انتخاب کب ہوگا؟ تاریخ کا اعلان ہوگیا

اسلام آباد : ملک میں نئے صدر مملکت کا...

دور فرعون میں لاشوں کو ’’ممی‘‘ کیسے بنایا جاتا تھا؟ راز پتہ چل گیا

سائنسدانوں نے مصر میں ایسی جگہ دریافت کی ہے جہاں دور فرعون میں انسانی لاشوں کو حنوط کرکے ممی بنایا جاتا ہے۔

قدیم مصر کے دور فرعون میں انسانوں بالخصوص اس وقت کے حکمراں، اشرافیہ اور امرا کو مرنے کے بعد ان کی لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حنوط کرکے ممیوں کا روپ دیا جاتا تھا جس کے باعث وہ صدیوں تک محفوظ رہتی تھیں۔ لاشوں کو حنوط کرکے ممیاں بنانے کے اس فن کے راز جاننے کیلیے موجودہ سائنس مسلسل کوشاں ہے اور اب اس میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

مصر میں سائنسدانوں نے ایک ایسی قدیم جگہ دریافت کی ہے جہاں انسانوں کو حنوط کرنے کا علم تکمیل پاتا تھا۔ اس جگہ پر قدیم مصری زبان میں اس عمل کی وضاحب کی گئی ہے کہ ممیاں کیسے تیار کی جاتی تھیں۔

یہ جگہ قاہرہ کے جنوب میں تقریباً 30 کلومیٹر دور دریافت ہوئی ہے جو تقریباً 664-525 قبل مسیح کی ہے۔ یہ مقام زمین کی سطح کے اوپر زیر زمین کئی کمروں پر مشتمل ہے جو مزید 30 میٹر تک گہرائی میں موجود ہیں۔

یہاں سے ملنے والے بعض مادوں کے بارے میں خیال ہے کہ یہ جنوب مشرقی ایشیا تک سے حاصل کیے جاتے تھے، جس سے اس عمل کے لیے درکار اشیا کا وسیع تجارتی نیٹ ورک ظاہر ہوتا ہے۔

لاشیں حنوط کرکے ممی بنانے سے متعلق اب تک سائنسدانوں کی معلومات قدیم پائپری متن، یونانی مورخین اور ممیوں پر کیے گئے تجربات پر مبنی تھیں۔ جس سے پتہ چلا تھا کہ اس میں مختلف تیلوں کا مرکب، درختوں کی گوند اور تارکول جیسے مادوں کا استعمال ہوتا تھا تاہم اس سے آگے کی تفصیلات پر تاحال پردہ پڑا تھا۔

محققین قدیم ممیوں میں پائے جانے والے مادوں کا تجزیہ کر سکتے تھے، لیکن وہ اس بات کی نشاندہی نہیں کر سکتے تھے کہ انہیں کہاں، کیوں یا کیسے استعمال کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے ایک تحقیقی جریدے ”نیچر‘‘ میں نئی تحقیق اور دریافت کے بارے میں شائع کی گئیں۔ ان نئی دریافت میں 31 بند صندوق، جو ابھی تک باقیات سے بھرے ہوئے ہیں، 600 قبل مسیح کی حنوط کرنے کی مخصوص جگہ، جن میں کچھ میں مخصوص مادوں کو کیسے اور کہاں استعمال کرنا ہے اس کے بارے میں بھی ہدایات موجود تھیں۔ ایک صندوق پر درج ہے کہ اس ‘مادے‘ کو سرکو حنوط کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے، جبکہ دوسرے پر درج ہے کہ اسے خوشبو کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

مصر میں برآمد ہونے والے ان مرتبانوں کے تجزیہ کی ضرورت تھی۔ لیکن مصر کا قانون ان قدیم نمونوں کو ملک سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ سائنسدانوں نے مصر میں ہی نمونوں کا تجزیہ کرنے کے لیے قاہرہ کے ایک مقامی تحقیقی مرکز کے ساتھ مل کر کام کیا۔ نمونے جانچنے کے لیے سائنسدانوں نے بہت سے جدید سائنسی اور کیمیائی طریقوں پر عمل کر کے ان کا تجزیہ کیا۔

دوسری جانب قدیم مصری زبان کی معلومت کیلیے ماہرین آثار قدیمہ، قدیم زبان کے ماہرین اور کیمیا دان ’’سقرہ‘‘ نامی قبرساتن میں اکٹھے ہوئے اور اس باہمی تعلق نے محققین کو قدیم مصری اصطلاحات کو نئے زاویوں سے سمجھنے میں مدد دی۔

جرمنی کی لُڈوِگ میکسیملیین یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کے پروفیسر نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نے برتن کے اندر موجود کیمیائی مادوں کو شناخت کر کے اور اسے باہر کے لیبل کے ساتھ جوڑ کر اجزا کی درجہ بندی کی ہے۔

جیسا کے انتیو نامی ایک تیل کے بارے معلوم ہوا کہ یہ جانوروں کی چربی سے ملا ہوا ایک مرکب ہے جس میں خوشبو اور صنوبر کا تیل بھی شامل ہے۔ سائنسدانوں کو گرم ممالک میں پائے جانیوالے دو درختوں کی گوند بھی ملی جن کا تعلق جنوب مشرقی ایشیا یا افریقہ سے بھی ہوسکتا ہے اور یہ دونوں اپنی خوشگوار خوشبو، پھپھوندی اور بیکٹریا لگنے سے تحفظ فراہم کرنے کی خصوصیت رکتھے ہیں۔

محقیقن نے کہا کہ اس مطالعے سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بنیادی طور پر حنوط کیے جانے کی صنعت ابتدائی عالمگیریت کو آگے بڑھانے کا ایک قدم تھا، کیونکہ ممیاں بنانے کیلیے ان اشیا کو پورے جنوب مشرقی ایشیا کے دور دراز علاقوں سے منگوانے کی ضرورت ہوتی تھی۔

اسی حوالے سے قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی میں ‘مصریات‘ کی پروفیسر سلیمہ اکرام نے بتاتے ہوئے کہا کہ اس مطالعہ سے پہلے ہمارے پاس چیزوں کے نام موجود تھے، لیکن ہم واقعی نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا ہیں؟ ہم نے فرض کیا تھا کہ وہ کچھ اور ہوگا۔

نمونوں کے تجزیہ کرنے کے اس خاص طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے یارک یونیورسٹی اور ٹیوبنگن میں ایبر ہارڈ کارلس یونیورسٹی میں آثار قدیمہ کے پروفیسر اور شریک مصنف اسٹیفن بکلی نے کہا کہ ”بنیادی طور پر، یہ عمل مرکبات کو الگ کرتا ہے اور پھر انفرادی عناصر کے سالماتی فنگر پرنٹ کو تلاش کرتا ہے، جس سے بالآخر محققین کو ممی حنوط کرنے کی اصل ترکیب کو سمجھنے میں مدد ملی۔

Comments

- Advertisement -