انسانی سرکا ٹرانسپلانٹ‘ خواب شرمندۂ تعبیرنہ ہوسکا -
The news is by your side.

Advertisement

انسانی سرکا ٹرانسپلانٹ‘ خواب شرمندۂ تعبیرنہ ہوسکا

انسانی سر کے ٹرانسپلانٹ کا دعویٰ کرنے والے اطالوی سائنسداں کا جھوٹ سامنے آگیا‘ چینی سرجن کا کہنا ہے کہ انسانی سرکے ٹرانسپلانٹ کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

تفصیلات کے مطابق 56 سالہ چینی سرجن پروفیسر رین ژیاؤ پنگ نے انسانی سر کے ٹرانسپلانٹ سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ انسانی سر کا ٹرانسپلانٹ نہیں کیا ‘ اس سلسلے میں فی الحال پہلا سرجیکل ماڈل تیار کیا ہے۔

پروفیسر رین

یہ ساری صورتحال تب پیدا ہوئی جب اطالوی پروفیسر سرجیو کناورو ‘ جنہوں نے 2015 میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ عنقریب انسانی سر کا ٹرانسپلانٹ کریں گے‘ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین کے پروفیسر رین اور ان کی ٹیم نے اٹھارہ گھنٹے طویل آپریشن کے نتیجے میں انسانی لاش پر دنیا میں پہلےا نسانی سر کا کامیاب ٹرانسپلانٹ مکمل کرلیا ہے۔

انہوں نےویانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسی قسم کا ٹرانسپلانٹ اب بہت جلد ایک زندہ جسم پر کیا جائے گا۔

پروفیسررین کی تردید


پروفیسر رین نے ان اطلاعات کی تردید کرتےہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ زندہ سر پر ٹرانسپلانٹ کب کیا جائے گا‘ انہوں نے زور دیا کہ ابھی ایک طویل سفر باقی ہے۔

چین کے ہربن یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر رین کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم اس نوعیت کا کامیاب تجربہ ایک کتے پر کرچکے ہیں اور اس آپریشن میں انہوں نے ریڑھ کی ہڈ ی کو دوبارہ فعال کرنے کے مسئلے کا حل نکال لیا ہے‘ اسی نوعیت کا ایک تجربہ چوہے پر بھی کیا گیا ہے۔

سرجن نے صحافیوں کو ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں وہ اور ان کی ٹیم ایک کتے کا آپریشن کررہے ہیں‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انسانی سر کے ٹرانسپلانٹ میں سب سے بڑی رکاوٹ ریڑھ کی ہڈی کو دوبارہ فعال کرنا ہے ‘ وہ اس رکاوٹ کو دور کرچکے ہیں‘ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس آپریشن کے بعد کتے کا برتاؤ نارمل نہیں رہا ۔

ماہرین کی رائے


جنوبی مانچسٹر کے یونی ورسٹی اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر جیمز فلڈس کا کہنا ہے کہ جب تک سرجیو یا رین پختہ ثبوت مہیانہیں کرتے کہ انہوں نے بڑے پیمانے پرکامیاب آپریشن کیا ہے‘ تب تک ان کے دعوے کو اخلاقی طور پر غلط سمجھا جائے۔

دوسری جانب کچھ ڈاکٹرز اسے موت سے زیادہ ہولناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب بھی ہوجاتا ہے تو دماغ نئے جسم کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردے گا اوراس صورت میں مریض کو ایسے شدید نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن کا آج تک کبھی تجربہ نہیں کیا گیا۔

نیورو سرجن ڈاکڑ سرجیو کیناورو کا دعویٰ


یاد رہے کہ نیورو سرجن ڈاکڑ سرجیو کیناورو نے لگ بھگ دو سال قبل اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا کے پہلے سر کے ٹرانسپلانٹ کو عملی جامہ پہنائیں گے‘ اس سرجری میں ایک زندہ شخص کا سر ایک عطیہ شدہ مردہ جسم سے جوڑا جائے گا۔

دوسری جانب ڈاکٹر سرجیو کے ہم عصر سرجنوں کا پہلے دن سے یہ کہنا ہے کہ یہ محض ایک خیالی منصوبہ ہے اور اس کا مقصد ساری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

نیورو سرجن نے دعوی ٰ کیا تھا کہ دنیا کا پہلا سر کا ٹرانسپلانٹ چینی باشندے کا ہوگا اورممکنہ طور پر وہ یہ آپریشن اس سال کرسمس کے قریب کریں گے ‘ تاہم چینی سرجن نے یہ کہہ کر ان کے تمام دعووں کی قلعی کھول دی کہ فی الحال یہ منزل ابھی بہت دور ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں