site
stats
عالمی خبریں

ہنگری میں مسجد، مؤذن اور حجاب پر پابندی

ہنگری : جنوبی علاقے اسوتھالوم میں مسجد، مؤذن، برقعے، برقینی اور چہرے پر نقاب پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

ہنگری کے جنوبی علاقے اسوتھالوم کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میئر لاسزلو تروکزکائی نے اپنے علاقے میں مسجد، مؤذن، برقعے، برقینی اور چہرے پر نقاب پر مکمل نقاب پر پابندی عائد کردی۔

mayor

اس علاقے کے کونسلروں نے اپنے حلقے میں مساجد کی تعمیر پر بھی پابندی کے حق میں رائے دی، اب ہنگری کے اس علاقے میں ہیڈاسکارف حتیٰ کے بدن پر چادر اوڑھنے تک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

سیربیا کی سرحد سے متصل ہنگری کے اس جنوبی علاقے کو گزشتہ برس مہاجرین نے مغربی یورپ پہنچنے کے لیے استعمال کیا تھا، تاہم بعد میں ہنگری نے اپنی سرحد بند کر دی تھی، ہنگری میں قدامت پسند آبادی مسلمان مہاجرین کی آبادکاری کے خلاف جذبات رکھتے ہیں۔

اس قانون سازی کا دفاع کرتے ہوئے میئر لاسزلو تروکزکائی نے کہا کہ اس علاقے کی روایات اور رسوم کے تحفظ کے لیے یہ اقدام انتہائی ضروری تھا، یورپی یونین کی مہاجرین کی تقسیم سے متعلق اسکیم کی روک تھام کے لیے یہ طریقہ کار گر ہو گا۔

ہنگری کی اسلامی کمیونٹی ایم آئی کے نے اس فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سے حکم نامے کے بعد ہنگری میں مسلمانوں کیلئے نفرت میں اضافہ اور اسلام فوبیا سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے۔

hun

انکا کہنا ہے کہ ہم نے آئینی عدالت میں اس حکم نامے کی جانچ پڑتال کے لئے تحریری طور پر درخواست دی ہے، اگرچہ ہم ایک مذہبی اقلیت ہیں، ہمارے آئینی حقوق کو بھی محفوظ ہونا ضروری ہے، جیسے غیر مسلم اکثریت ہیں، ہم بھی ہنگرین شہری ہیں۔

ہنگری کی اسلامی کمیونٹی ایم آئی کے 1990 میں قائم کی گئی تھی، یہ ہنگری میں مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کرنے والا قدیم ترین گروپ ہے اور اس میں تقریبا 40000 ارکان ہیں۔

خیال رہے کہ تروکزکائی ہنگری کی سرحد پر باڑ کی تعمیر کے لیے سب سے پہلے آواز اٹھانے والوں میں شامل تھے، 2015 کے آخر میں ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے مہاجرین کے لیے ملکی سرحدیں بند کر دی تھیں۔

یہ بات اہم ہے کہ وکٹور اوربان بھی مہاجرین کے سخت مخالف ہیں اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی پر تنقید کرتے آئے ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے یونان اور اٹلی میں موجود ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین کو مختلف یورپی ممالک میں تقسیم کرنے سے متعلق پالیسی کی مخالفت کرنے والوں میں بھی اوربان آگے آگے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top