The news is by your side.

Advertisement

خاوندوں کے چہرے مختلف کیوں ہوتے ہیں؟

میرا دوست ’’ف‘‘ کہتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس دنیا کا سب سے پہلا مہذب جانور کون سا ہے تو میں کہوں گا ’’خاوند۔‘‘

میں نے پوچھا ’’دوسرا مہذب جانور؟‘‘

جواب ملا ’’دوسرا خاوند۔‘‘

خاوند کو اردو میں عورت کا مجازی خدا اور پنجابی میں عورت کا بندہ کہتے ہیں۔ جب کہ گھر میں اسے کچھ نہیں کہتے۔ جو کچھ کہتا ہے وہی کہتا ہے۔

سارے خاوند ایک جیسے ہوتے ہیں۔ صرف ان کے چہرے مختلف ہوتے ہیں تاکہ ہر کسی کو اپنا اپنا خاوند پہچاننے میں آسانی ہو۔

ہر خاوند یہی کہتا ہے کہ مجھ جیسا دوسرا خاوند پوری دنیا میں نہیں ملے گا اور عورت اسی امید پر دوسری شادی کرتی ہے، مگر اسے ہر جگہ کوئی دوسرا نہیں ملتا، خاوند ہی ملتا ہے۔

(یونس بٹ کے قلم کی شوخی)

Comments

یہ بھی پڑھیں