site
stats
پاکستان

امریکی ایجنٹوں کو ویزا دینے کے لیے حکومت پر زور نہیں‌ دیا، حسین حقانی

کراچی: امریکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ بہت سے لوگ سنی سنائی باتوں پر عمل کرتے ہیں، امریکی ایجنٹوں کو ویزا دینے کےلیے حکومت پر زور نہیں دیا بلکہ امریکی حکومت کا مطالبہ پاکستان تک پہنچایا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے حسین حقانی نے کہا کہ ’’سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری میرے خلاف عدالت میں میلہ لگا کر رکھتے تھے مگر انہوں نے میرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’میرا آرٹیکل پورا نہیں پڑھا گیا اور لوگوں نے ماضی کی طرح ایک بار پھر الزامات لگانے شروع کردیے، مضمون میں کہیں نہیں لکھا کہ ہم نے ویزے جاری کیے یا پھر میں نے حکومت پر زور دیا، امریکی ہم سے طاقت ور نہیں اس لیے 2 ہزار غیر ملکی ایجنٹوں کو پکڑنا ہماری ایجنسیوں کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔

حسین حقانی کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ صرف سنی سنائی باتوں پر گزارا کرتے ہیں اور بغیر پڑھے الزامات لگاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مجھ پر ماضی میں سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیے گئے جبکہ امریکیوں کے مطالبے پر میں نے کوئی عمل نہیں کیا بلکہ اُن کی بات کو صرف حکومت تک پہنچایا تھا‘‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’ میموگیٹ میں منصوراعجاز کےایس ایم ایس کےجواب دیناغلطی تھی اس لیے عدالت میں پیش ہوا اور مقدمے کا سامنا کیا جبکہ اُس میں میرے خلاف کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں غداری سازی کے کارخانے بند ہونے چاہیے اور ماضی میں بنائے جانے والے تمام کمیشنوں کی رپورٹوں کو منظر عام پر لایا جائے۔

پاکستان آنے کے حوالے سے حسین حقانی نے کہا کہ ’’مجھے سیکیورٹی خدشات ہیں کیونکہ بے نظیر جیسی عظیم لیڈر کے قاتل بھی آج تک نہیں پکڑے گئے، البتہ اگر عدالت چاہیے تو منصور اعجاز کی طرح ویڈیو پر اپنا بیان ریکارڈ کرواسکتا ہوں‘‘۔

دوسری جانب حسین حقانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حسین حقانی نے بی بی شہید اور نصرت بھٹو پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اُن کی کردار کشی کی، حسین حقانی نے سب کچھ نوازشریف کے کہنے پر کیا‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top