site
stats
پاکستان

تصویر کیوں لیک ہوئی؟ حسین نواز سپریم کورٹ پہنچ گئے

اسلام آباد : حسین نواز نے جے آئی ٹی میں پیشی کی تصویر لیک ہونے کا معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھاتے ہوئے ویڈیو ریکارڈنگ پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی جےآئی ٹی کے سامنے پیشی کے وقت انتظار گاہ میں بیٹھے حسین نواز کی تصویر جاری ہونے پرمسلم لیگ (ن) نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

حسین نواز کی جانب سے وکیل خواجہ حارث نے درخواست جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ تصویر کا اجراء کر کے میرے موکل کی تضحیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی وضاحت کے لیے جے آئی ٹی سے جواب طلب کیا جائے کیوں کہ تصویر لیک ہونے کی ذمہ دار جے آئی ٹی ہی ہے۔

جے آئی ٹی پیشی کی تصویر لیک، حسین نواز نے ذمہ دار سربراہ جےآئی ٹی کو قرار دے دیا

حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے درخواست کی کہ جے آئی ٹی تصویر لیک ہونے کی ذمہ دارہے، عدالت معاملے پر کمیشن تشکیل دے اور عدالت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والے افراد کی ویڈیو ریکارڈنگ پر بھی پابندی عائد کرے کیوں کہ ویڈیو ریکارڈنگ سے پیش ہونے والے پر دباؤ پڑتا ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا یہ ویڈیو ریکارڈنگ نہیں بلکہ اسکرین شاٹ تھا جب کہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی ضرورت ہوئی تو دیکھیں گے۔

حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کی تصویر لیک ہونے کے معاملے کا نوٹس لے لیا گیا 

بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہوئے حسین نواز تصویر لیک ہونے پر جے آئی ٹی سے پیر کو جواب طلب کرلیا ہے۔

خیال رہے چند روز قبل جے آئی ٹی میں پیشی کے وقت انتظار گاہ میں تنہا بیٹھے حسین نواز کی تصویر لیک ہوئی تھی یہ تصویر سی سی ٹی کیمرے کی مدد سے لی گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top