The news is by your side.

Advertisement

حسین شہید سہروردی: شخصیت و خدمات پر ایک نظر

عراق کے شہر سہرورد سے ہجرت کے بعد مغربی بنگال کو اپنا مستقر بنانے والے خاندان کی جن شخصیات نے علم و فنون سے لے کر سیاست کے میدان تک اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کو منوایا ان میں ایک حسین شہید سہروردی بھی ہیں۔

ان کا خاندان سلسلۂ تصوّف کے عظیم بزرگ شہاب الدّین سہروردی کے خاندان سے نسبت کی وجہ سے خود کو ‘‘سہروردی’’ کہلواتا تھا۔

مختصر عرصے کے لیے حسین شہید سہروردی پاکستان میں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہے. آج اس مدبّر اور فہیم سیاست داں کی برسی ہے۔ ان کی زندگی اور سیاسی سفر پر چند سطور پیشِ خدمت ہیں۔

حسین شہید سہروردی کا خاندان علم و فنون کا شیدا اور تعلیم یافتہ گھرانوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ حسین شہید سہروردی 1892 میں پیدا ہوئے۔

ان کا گھرانا بنگال کے مدنا پور میں آباد تھا۔ ان کے والد کا نام زاہد سہروردی تھا جن کو بہت عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ کولکتہ، ہائی کورٹ کے جج تھے۔ عربی، فارسی، انگریزی اور اُردو پر عبور رکھتے تھے۔ والدہ کا نام خجستہ اختر بانو تھا جو ادب سے گہرا شغف رکھتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اُردو زبان کے اوّلین ناول نگاروں میں سے ایک ہیں اور اس زمانے میں سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کرنے والی پہلی مسلمان خاتون تھیں۔ حسین شہید سہروردی کے بڑے بھائی کا نام حسن شاہد سہروردی تھا اور یہ بھی علم و فنون کے شائق اور قابل شخص تھے۔

اس ماحول کے پروردہ حسین شہید سہروردی نے تقسیم سے قبل سماجی حالات میں بہتری لانے کی کوششیں کیں اور سیاست میں حصّہ لینا شروع کیا تھا. پاکستان کی تحریکِ آزادی میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔ 1956 سے 1957 تک پاکستان کے وزیراعظم رہنے والے حسین شہید سہروردی کو سیاسی اختلافات اور دباؤ بڑھنے پر یہ منصب چھوڑنا پڑا۔ اس دور میں‌ آئین تشکیل دینے کے حوالے سے بھی حسین شہید سہروردی کو یاد رکھا جائے گا. ان کا انتقال 1963 میں لبنان میں قیام کے دوران ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں