The news is by your side.

Advertisement

ٹیپو سلطان کے والد امریکا کی آزادی کے ’ہیرو‘ قرار

آپ نے بچپن میں وہ مشہور مقولہ تو ضرور پڑھا ہوگا، ’شیر کی ایک دن کی زندگی گیڈر کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے‘۔ اس مشہور مقولے کے خالق برصغیر کے عظیم سپہ سالار ٹیپو سلطان ہیں جنہوں نے برصغیر کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کروانے کے لیے بھرپور جدو جہد کی۔

ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی برصغیر کی ریاست میسور کے حکمران تھے اور وہ بھی بہادری و شجاعت کی مثال تھے۔ وہ برصغیر میں انگریزوں کے تسلط کے خلاف ایک ڈھال بن کر کھڑے ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی انہیں اپنی ’جنگ آزادی کا ہیرو‘ مانتے ہیں۔

لسٹ ورس نامی ایک ویب سائٹ نے ان دس سپہ سالاروں کی فہرست مرتب کی جس میں انہوں نے ان غیر ملکی جنگجوؤں کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے امریکا کی سرزمین سے دور رہ کر امریکا کی جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکا کی جنگ آزادی جسے امریکی انقلابی جنگ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، سنہ 1765 سے 1783 کے درمیان لڑی گئی جو امریکا میں برطانوی تسلط کے خلاف تھی۔ اس جنگ میں امریکیوں نے برطانویوں کو شکست فاش دے کر اپنے ملک سے نکال پھینکا اور اس کے بعد متحدہ ریاست ہائے امریکا کا وجود عمل میں آیا۔

مضمون کے مطابق امریکا کی یہ جنگ صرف امریکا کی سرزمین پر نہیں بلکہ دنیا کے ہر اس حصے میں لڑی گئی جہاں برطانویوں نے اپنا تسلط جمائے رکھا تھا۔

مزید پڑھیں: دنیا بدل دینے والی 5 مسلمان ایجادات

برصغیر میں یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں پورے برصغیر پر قابض ہوچکی تھی اور ایسے میں سلطان حیدر علی ان کے خلاف ایک مضبوط چٹان کی صورت کھڑے ہوئے۔

مضمون کے مصنف مارک اولیور کے مطابق اس جنگ میں جن غیر ملکی سپہ سالاروں نے امریکیوں کا ساتھ دیا ان میں حیدر علی سر فہرست ہیں۔ مضمون کے مطابق حیدر علی نے انگریزوں کے خلاف فرانس کا ساتھ دیا اور ان کے ساتھ مل کر انگریزوں کو شدید زک پہنچائی۔

اور صرف ایک یہی مضمون نہیں، اس سے قبل بھی کئی مورخین نے برصغیر کو امریکی انقلابی جنگ کا آخری میدان جنگ قرار دیا ہے جہاں انگریزوں کو عبرت ناک شکست اٹھانی پڑی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں