site
stats
سندھ

نورین کہاں‌ گئی؟ وی سی اور والد کے متضاد بیانات، معاملہ الجھ گیا

حیدر آباد: لیاقت یونیورسٹی کی لاپتا طالبہ نورین کے والد نے کہا ہے کہ لڑکی مرضی سے نہیں گئی، اسے اغوا کیا گیا، پولیس بہانے بازی کررہی ہے جبکہ وائس چانسلر نے کہا ہے کہ لڑکی شدت پسندوں سے متاثر تھی اور اس کے خیالات تبدیل ہوچکے تھے۔

تفصیلات کے مطابق 10 فروری کو حیدرآباد سے لاپتا ہونے والی لڑکی کے نام سے اس کے بھائی کے فیس بک اکاؤنٹ پر پیغام آیا کہ میں اللہ کے فضل سے خلافت کی سرزمین پر موجود ہوں، والدین پریشان نہ ہوں۔


یہ پڑھیں: پریشان نہ ہوں، خلافت کی سرزمین پر خیریت سے ہوں، لاپتا طالبہ کا پیغام


لڑکی کے اس پیغام کے بعد سوالات پیدا ہوگئے کہ وہ ہے کہاں؟؟ وہ خلافت کی دعوے دار ممالک افغانستان، شام عراق یا کہاں پر موجود ہے؟

نورین لغاری انتہا پسندوں کے مائنڈ سیٹ کے باعث لاپتا ہوئی، وائس چانسلر

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے افراد نے بھی لڑکی کے انتہا پسندانہ خیالات کی تصدیق کی ہے، اسی حوالے سے لیاقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر نوشاد احمد شیخ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبہ نورین لغاری انتہا پسندوں کے مائنڈ سیٹ کے باعث لاپتا ہوئی جب بچی یہاں سے جاتی تھی تو یقیناً ایسے لوگوں سے ملتی تھی جو لوگوں کے ذہن تبدیل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیس بک اکاؤنٹ سے لگتا ہے کہ وہ کسی دہشت گرد ادارے کے ساتھ مل گئی ہے جو کہ اینٹی گورنمنٹ بھی ہے اور اللہ کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ بچوں کا ذہنی نازک ہوتا ہے، ٹیچرز، دوستوں اور سب کو ایسے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

نورین مرضی سے جاتی تو موبائل فون و دیگر سامان لے جاتی، والد

دوسری جانب والد نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس بہانے بازی کررہے ہے، لڑکی کو اغوا کیا ہے اگر وہ اپنی مرضی سے کہیں گئی ہوتی تو کچھ سامان لے کر جاتی۔

حیدرآباد کے علاقے حسین آباد میں رہائش پذیر نورین کے والد عبد الجبار نے اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نورین میری بیٹی تھی مجھے ہی پتا ہے کہ اس کا مائنڈ کیاتھا، مجھے وہ انتہا پسند کبھی نہیں لگی، اسے اغوا کیا گیا کیوں کہ اگر اس کا جانے کا پروگرام ہوتا تو وہ کپڑے ، موبائل فون ، پیسے اور ٹوتھ برش وغیر لے کر جاتی۔

اطلاعات ہیں کہ ڈی آئی جی نے ویمن پروٹیکشن سیل کی خاتون افسر کو تفتیشی افسر مقرر کردیا۔

لڑکی انٹرنیٹ پر انتہا پسندی کے مواد سے متاثر ہوئی، پولیس

اس حوالے سے ایس ایس پی پولیس عرفان بلوچ نے اے آر وائی نیوز سے لائیو بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لڑکی گم ہونے کے کیسز میں اگر لڑکی خود کہیں چلی جائے تو پتا نہیں چلتا کہاں ہے ایسے کیسز پیچیدہ ہوتے ہیں انہیں حل کرنے میں وقت لگتا ہے ٹیمیں بنادی ہیں جو لاہور گئی ہوئی ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر نوجوان لڑکے لڑکیاں انتہا پسندی سے متعلق اپنے آئیڈیاز شیئر کرتے ہیں، یہ لڑکی بھی ایسے ہی کیس کا شکار ہوئی۔

واضح رہے کہ نورین نے پیغام میں مزید کہا تھا کہ ’’ اللہ کے فضل سے خلافت کی زمین پر ہجرت کر کے پہنچ گئی ہوں، امید ہے آپ لوگ بھی ایک نہ ایک دن ضرور ہجرت کریں گے، میں بالکل خیریت سے ہوں‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top