The news is by your side.

‘میں ملکہ برطانیہ کو قتل کرنا چاہتا تھا،’ نوجوان نے اعتراف جرم کرلیا

لندن: برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کو قتل کے ارادے سے آنے والے شخص نے برطانوی عدالت میں اعترافی بیان دے دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ برس  25 دسمبر کو کرسمس کے موقع پر 20 سالہ نوجوان جسونت سنگھ تیر کمان اٹھائے ونڈسر محل میں گھسنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اُس وقت ملکہ الزبتھ اپنے بیٹے شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر کے ہمراہ ونڈسر محل میں موجود تھیں۔

ملزم کا کہنا تھا کہ "میں یہاں ملکہ کو مارنے آیا ہوں،” جس کے بعد پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا تھا۔

انسداد دہشتگردی پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزم کے خلاف قتل کی دھمکی، اشتعال انگیز ہتھیار کی موجودگی اور غداری کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم کو قتل کے ارادے سے آنے والے شخص نے برطانوی عدالت میں اعترافی بیان دیا ہے۔ لندن کی ویسٹ منسٹر عدالت میں ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے انتقام لینا چاہتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملکہ پر حملے کرنے سے قبل ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ "میں نے جو بھی کیا اور جو کرنے جارہا ہوں اس پر معذرت خواہ ہوں، میں شاہی خاندان کی ملکہ الزبتھ کو قتل کرنے جا رہا ہوں، یہ ان افراد کا بدلہ ہے جن کا برطانوی فوج نے 1919 میں قتل عام کیا تھا، میں ان 400 سکھوں کو قتل کرنے کا بدلہ لینے جارہا ہوں جنہیں برطانوی فوجیوں نے شمال مغربی ہندوستان میں ان کے مقدس شہر امرتسر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔”

خیال رہے کہ 1919 میں برطانوی فوج کی جانب سے کیے گئے قتل عام کو جلیانوالہ باغ سانحہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، برطانوی فوجیوں نے غیر مسلح شہریوں پر گولی چلا دی جو ایک نوآبادیاتی قانون کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں