The news is by your side.

Advertisement

تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ کروں گی، وزیر اعظم تھریسا مے

لندن : برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے تحریکِ عدم اعتماد کا مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا.

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم تھریسامے کے خلاف پارلیمنٹ میں ٹوری پارٹیز اور حکمران جماعت 48 ایم پیز کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی تھی جسے منظور کرلیا گیا۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد منظور ہونے پر وزیر اعظم تھریسا مے نے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم تھریسا مے کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کروں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قیادت میں تبدیلی ملک کو بڑے خطرے سے دوچار کرسکتی ہے اور تبدیلی کی صورت میں بریگزٹ بھی تعطل کا شکار ہوگی۔

مزید پڑھیں : برطانوی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور

یاد رہے کہ برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کی حکومت مشکل میں پھنس گئی ہے، پارلیمنٹ نے تھریسامے کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کرلی جس پر آج ووٹنگ ہوگی۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ درخواستیں جمع کروانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم ذرائع کے مطابق کابینہ اراکین سمیت دیگر کا کہنا ہے کہ 48 افراد نے درخواستیں جمع کرو ائی ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر تھریسامے بریگزٹ معاہدے کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں ناکام رہی تو حکمران جماعت کو پارٹی کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنا پڑے گا جو آئندہ کا وزیر اعظم بھی بن جائے گا۔

مزید پڑھیں : برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ ملتوی کردی

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے مختلف رہنماؤں کے نام لیڈڑ شپ اور وزارت داخلہ کے لیے سامنے آرہے ہیں جس میں سابق وزیر بورس جانسن اور موجودہ وزیر داخلہ ساجد جاوید کا نام بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بریگزٹ سے متعلق ملتوی ہونے والی رائے شماری آئندہ برس 21 جنوری سے پہلے ہونی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں