site
stats
اہم ترین

ارکان پارلیمنٹ سے متعلق آئی بی کا لیٹر اصلی ہے، وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہوا، انکشاف

parliment

اسلام آباد: ارکان پارلیمنٹ سے متعلق انٹیلی بیورو کے لیٹر کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ لیٹر جعلی نہیں اصلی تھا اور وہ وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہوا۔

تفصیلات کے مطابق دو روز قبل ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس کے دوران حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ حکومت نے اپنے ہی وزرا اور ارکان اسمبلی سمیت دیگر کے خلاف دہشت گردوں سے تعلق کا الزام عائد کرتے ہوئے آئی بی کو ہمارے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے جس کا لیٹر منظر عام پر آچکا ہے۔


یہ پڑھیں: نوازشریف نے37اراکین پارلیمنٹ کیخلاف آئی بی کو متحرک کیا، انکشاف


ارکان اسمبلی نے اجلاس کا واک آؤٹ بھی کیا جواب میں حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ لیٹر جعلی ہے تاہم اب انکشاف ہوا ہے لیٹر اصلی تھا اور وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہوا۔

اس معاملے پر وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر قانون زاہد حامد ،ریاض پیرزادہ اور ڈائریکٹر جنرل آئی بی کی ملاقات ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بتایا گیا کہ آئی بی کو لکھا گیا لیٹر جعلی نہیں بلکہ بالکل درست ہے جو پی ایم ہاؤس سے جاری ہوا،ا جلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تفصیلات میں جانے سے معاملہ مزید گمبھیر ہوگا، ارکان پارلیمنٹ سے متعلق سفارت خانوں اور الیکشن کمیشن کو خط لکھا جائے گا اور ان خطوط کے ذریعے ارکان پارلیمنٹ کو کلیئر قرار دیا جائےگا۔

ذرائع نے بتایا کہ لیٹر کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد سے وزیراعظم ہاؤس کی لا گ شیٹ غائب ہے۔


اجلاس میں طے پایا کہ بتایا جائے گا کہ ارکان پارلیمنٹ کے دہشت گردوں سے رابطے نہیں، خط درست تھا لیکن تحقیقات نہیں کی جائے، پیر کو وزیر داخلہ قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیں گے اور معاملہ رفع دفع کیا جائے گا۔

ذرائع نے اس بیٹھک کی اندرونی کہانی میں انکشاف کیا کہ ارکان نے سیکریٹری فواد حسن فواد سے پوچھا کہ کیا وہ گرفتار ہوسکتے ہیں؟ تو جواب میں فواد نے انہیں کہا کہ وہ گرفتار بھی ہوسکتے ہیں اور نااہل بھی۔

یاد رہے کہ اے آر وائی نیوز کے اینکر و سینئر صحافی ارشد شریف نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف نے حکومت پر تنقید کرنے والے 37 اراکین پارلیمنٹ کے خلاف انٹیلی جینس بیورو (آئی بی) سے چھان بین کروائی، مذکورہ پارلیمنٹیرینز پر کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا الزام ہے جس پر عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں آئی بی کے سربراہ سے فوری مستعفی ہونے کیا۔


اسی سے متعلق:ارکان پارلیمنٹ سے متعلق آئی بی کی مبینہ فہرست، عدالتی انکوائری کا مطالبہ


یہ خبر جاری ہونے کے بعد آئی بی کے افسر کی جانب سے ارشد شریف کو کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی جس پر سیاسی جماعتوں نے لیٹر کی تحقیقات اور ارشد شریف کو دھمکیوں کے معاملے کی جوڈیشل انکوائری کا بھی مطالبہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top