The news is by your side.

Advertisement

فقہا اور اُمرا بھی اُس صاحبِ کرامات کے منتظر تھے!

آئیے ابنِ بطوطہ کی وساطت سے سلطنتِ فارس کے تاریخی شہر شیراز کے ایک بزرگ سے ملتے ہیں۔

اس مشہور مسلمان سیاح کو نوجوانی میں ملکوں ملکوں گھومنے کا موقع ملا اور اپنے وقت کے بادشاہوں، باکمالوں، مشہور منصب داروں، علما اور بزرگان دین کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا. ابنِ بطوطہ نے اپنے اس سفر کو اپنی قابلیت اور مشاہدے کی قوت سے نہایت خوبی سے رقم کیا ہے۔

اسی سفر نامے کے ایک ورق پر شیراز میں اسماعیل بن محمد خداداد کی زیارت کا احوال ابنِ بطوطہ نے کچھ یوں رقم کیا ہے۔

“شیراز جانے کا قصد یوں کیا کہ میں وہاں وحیدُ الشیخ، القاضی الامام، صاحبِ کراماتِ ظاہرہ اسماعیل بن محمد خداداد کی زیارت سے مشرف یاب ہونا چاہتا تھا۔ جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے ساتھ تین شخص اور تھے۔

ہم نے دیکھا کہ فقہا اور شہر کے بڑے لوگ آپ کا انتظار کرتے ہیں۔ چناں چہ جب آپ نمازِ عصر کے لیے باہر نکلے تو آپ کے ساتھ محبُ الدین اور علاءُ الدین آپ کے دونوں بھتیجے اور سگے بھائی روحُ الدین بھی تھے۔

میں نے سلام کیا تو آپ نے معانقہ فرمایا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑے ہوئے اپنے مصلیٰ تک چلے گئے۔ پھر ہاتھ چھوڑ دیا اور اشارہ کیا کہ میں نماز ادا کروں۔ سب نے نماز ادا کی۔

پھر آپ کے سامنے کتاب المصابیح اور صاغانی کی شوارقُ الانوار پڑھی گئی جس کے بعد قضا کے متعلق واقعات بیان ہوئے۔

میں نے دیکھا کہ اس کے بعد شہر کے بڑے لوگ سلام کے لیے آگے بڑھے۔

پھر آپ جیسے بزرگ بڑی شفقت فرمائی اور مجھے بلاکر میرے حالات دریافت فرمائے اور دیگر احوال سنا۔ میں نے خدمتِ عالی میں سب حالات بیان کیے۔”

اس شہر کی تاریخ ہزاروں سال قدیم ہے اور اس نے مختلف ادوار میں قرار و یلغار سبھی کچھ دیکھا۔ فارسی کے مشہور شاعر حافظ شیرازی اور شیخ سعدی بھی اسی شہر کے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں