The news is by your side.

Advertisement

کئی مقبول فلمی گیتوں کے خالق ابراہیم اشک انتقال کرگئے

معروف شاعر اور بھارتی فلموں کے گیت نگار ابراہیم اشک گزشتہ روز ممبئی کے ایک اسپتال میں‌ انتقال کرگئے۔ ابراہیم اشک نے مشہور فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ سے بطور نغمہ نگار فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ ان کی عمر 70 برس تھی۔

ابراہیم اشک اردو اور ہندی دونوں زبانو‌ں میں‌ لکھتے تھے۔ وہ صحافت سے وابستہ رہے اور متعدد اردو اخبارات میں کام کیا۔ ابراہیم اشک نے کئی ہندی فلموں کے لیے نغمات لکھے اور ٹی وی سیریلوں کے اسکرپٹ تحریر کیے۔

انھیں گزشتہ ہفتے سے علالت کے باعث ممبئی کے نواح میں ایک اسپتال میں علاج کی غرض سے داخل کیا گیا تھا، جہاں اتوار کی شام ان کی زندگی کا سفر تمام ہوگیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق وہ کووڈ 19 کا شکار تھے۔

ابراہیم اشک جن کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا، اپنے دور کے نمائندہ شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ انھوں نے فلم نگری میں ایک نغمہ نگار کی حیثیت سے شہرت اور شناخت بنائی۔

ابراہیم اشک نے متعدد شعری اصناف میں طبع آزمائی جن میں غزل اور نظم کے علاوہ دوہے اور گیت شامل ہیں۔ ان کی شاعری کے متعدد مجموعے شائع ہوئے جن میں الہام اور آگہی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ابراہیم اشک نے شاعری کے ساتھ تنقید بھی لکھی۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کا اعلان ہیں۔

ابراہیم اشک 20 جولائی 1951ء کو اجین مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی حاصل کی اور بعد میں ہندی ادبیات میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ انھوں نے شاعری کا آغاز کیا تو اشک تخلّص اختیار کیا۔

کہو نہ پیار ہے، کوئی مل گیا، جانشین، اعتبار، آپ مجھے اچھے لگنے لگے، کوئی میرے دل سے پوچھے اور دھند وہ فلمیں تھیں جن کے نغمات ابراہیم اشک نے تحریر کیے اور انھیں بہت پسند کیا گیا۔ ان کے لکھے ہوئے گیت مختلف گلوکاروں کی آواز میں مقبول ہوئے۔ مرحوم کو کئی ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں