عالمی عدالت برائے انصاف کا ماحولیاتی کیسوں کی سماعت کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

عالمی عدالت برائے انصاف کا ماحولیاتی کیسوں کی سماعت کا فیصلہ

دی ہیگ: عالمی عدالت برائے انصاف نے ماحولیاتی نقصانات سے متعلق کیسوں کو بھی اپنی عدالت میں چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس سے قبل اس عدالت میں صرف جنگی جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی سماعت ہوتی تھی۔

اقوام متحدہ کے زیر نگرانی 2002 میں قائم کی جانے والی عالمی عدالت برائے انصاف کو ثقافت اور ماحول سے متعلق کیسوں کی سماعت نہ کرنے پر تنقید کا سامنا تھا۔

اب عالمی عدالت نے اپنے ضابطہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے ان جرائم کی سماعت کا بھی فیصلہ کیا ہے جو ماحول کی تباہی، قدرتی ذرائع کی بربادی اور زمینوں پر غیر قانونی قبضہ سے متعلق ہیں۔

واضح رہے کہ زمینوں پر غیر قانونی قبضے گزشتہ عشرے سے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جو ماحول کی تباہی، وہاں عرصہ سے مقیم مقامی آبادیوں کی زبردستی ہجرت، اور غذائی قلت کا سبب بن رہی ہے۔

icc-2

دنیا بھر میں ہزاروں لاکھوں ایکڑ کی زمین نجی کمپنیوں کو فروخت کردی جاتی ہے جس کے بعد وہاں مختلف صنعتیں اور عمارتیں تعمیر کردی جاتی ہیں اور اس کے لیے وہاں موجود قدرتی خزانے جیسے جنگلات، جنگلی حیات یا جھیلوں ندیوں وغیرہ کو تباہ کردیا جاتا ہے۔ ان زمینوں کی فروخت کنندہ بعض اوقات قومی حکومتیں ہوتی ہیں۔

ایک عدالتی مشیر ایلس ہیریسن کے مطابق زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کی تباہ کاری کسی صورت جنگوں سے مختلف نہیں۔ ’عالمی عدالت کے ضابطہ کار میں یہ تبدیلی ان دولت مند سرمایہ کاروں کے لیے ایک تنبیہہ ہے کہ زمین کا ماحول ان کا کوئی کھلونا نہیں‘۔

دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز آلودگی میں اضافے کا سبب، کیس دائر *

واضح رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے یہ تبدیلی ایک فیصلہ کے بعد کی ہے جس میں انسانی حقوق کے وکیلوں کی جانب سے کمبوڈیا میں زمینوں پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف کیس دائر کیا گیا۔ وکیلوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان زمینوں کے چھننے کے بعد کمبوڈیا کی مذکورہ اقلیتی آبادی بے گھر، بے روزگار اور غربت کا شکار ہوچکی ہے، اور ایسا چونکہ زبردستی کیا گیا ہے، لہٰذا یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں