جمعہ, جون 21, 2024
اشتہار

آئس کریم اور پاپڑ کس طرح تیار کیے جاتے ہیں؟ دیکھ کر کھانا چھوڑ دیں گے

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : پنجاب فوڈ اتھارٹی کے عملے نے ڈی جی کی ہدایت پر ٹیم سر عام کے ہمراہ مختلف کارخانوں میں چھاپے مار کر بھاری تعداد میں مضر صحت پاپڑ اور آئس کریم کے پیکٹس برآمد کرلیے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سر عام کی ٹیم کے ہمراہ فوڈ اتھارٹی کے تحت لاہور کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کی گئیں، پہلی کارروائی میں ٹیم نے لاہور کے مضافاتی علاقے میں واقع آئس کریم فیکٹری کا معائنہ کیا۔

- Advertisement -

اس موقع پر فیکٹری میں مختلف فوڈ کلرز فلیورز موجود تھے جن میں سے زیادہ تر زائد المیعاد تھے جن کو مینگو، فالسہ اور پستہ نامی آئس کریموں میں استعمال کیا جانا تھا۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ اس کے علاوہ یہاں پر مضر صحت چاکلیٹ اسٹرابیری اور انار کے فلیورز بھی موجود ہیں اور جو اسٹکس آئس کریموں میں استعمال کی جاتی ہے وہ بھی پُھوئی (فنگس) لگی گندی حالت میں رکھی ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر پوری فیکٹری کی حالت ایسی ہے کہ اگر اسے کباڑ خانہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اس موقع پر فیکٹری کے ایک ذمہ دار سے گفتگو کی گئی تو وہ بھی کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔

تمام تر معائنے کے بعد ڈی جی فوڈ ز نے کہا کہ مالکان کیخلاف ایف آئی آر اور فیکٹری کو سیل کرنے کی قانونی کارروائی کیلئے مکمل شواہد موجود ہیں تاہم مالکان نے چار دن کی مہلت دینے کی درخواست کی ہے اس لیے مقدمہ درج کرنے کے بجائے 5 لاکھ روپے جرمانے کی وصولی اور تمام زائد المیعاد اشیاء ہم اپنی نگرانی مین تلف کروائیں گے۔

دوسری کارروائی میں ایک پاپڑ بنانے والی فیکٹری کا معائنہ کیا گیا یہاں بھی حفظان صحت کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھا گیا تھا اور جگہ جگہ انتہائی گندگی اور غلاظت کے ڈھیر دکھائی دیئے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں