The news is by your side.

Advertisement

روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام ، عالمی عدالت انصاف نے بڑا فیصلہ سنادیا

دی ہیگ : عالمی عدالت انصاف نے فیصلے برما کی حکومت کو حکم دیا کہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مہم بند کرے اور برمی فوج کو مسلمانوں کے قتل عام سے روکنے کے اقدامات کرے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا کی جانب سے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مہم بند کرے، عالمی عدالت انصاف روہنگیا مسلمانوں کی مبینہ نسل کُشی کے خلاف میانمار پر لگائے جانے والے الزامات پر مبنی مقدمہ سننے کی مجاز ہے۔

عالمی عدالتِ انصاف کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے گیمبیا کو مقدمے کی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی سنایا اور کہا برما کی حکومت برمی فوج کومسلمانوں کے قتل عام سے روکنے کے اقدامات کرے۔

روہنگیا مسلمانوں پربرما کی حکومت اورفوج کے مظالم کیخلاف مغربی افریقہ کے ملک گیمبیا نے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائرکی تھی، برما کی حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ عالمی عدالت کو کیس کی سماعت نہیں کرنا چاہئیے۔

برما کی امن کی نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی نے مسلمانوں کیخلاف تعصب اورجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی عدالت میں پیش ہوکربرما کی حکومت اورفوج کے مظالم کے حق میں بیان دیا تھا۔

مزید پڑھیں : روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی: آنگ سان سوچی عالمی عدالت انصاف میں پیش

انھوں نے عدالت میں کہا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور فوجی آپریشن ضرور کیا جارہا ہے، تاہم اس کا ہدف رخائن کی ریاست میں موجود مسلح اور جنگجو مسلمان ہیں، نہتے اور غیر مسلح روہنگیوں کو کچھ نہیں کہا جارہا۔

آنگ سان سوچی نے عالمی عدالت انصاف سے اس درخواست کو خارج کرنے کی بھی درخواست کی اور کہا تھا کہ اس ضمن میں پہلے ان کے اپنے ملک کی عدالتوں کو کام کرنے کا موقع دینا چاہیئے۔

میں مغربی افریقی ملک گیمبیا نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ میانمار اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، سنہ 1948 کے نسل کشی کے کنونشن کا دستخط کنندہ ہونے کے طور پر اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ نسل کشی کو روکے اوراس کے ذمہ داران کو سزا دلوائے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رونما ہورہا ہو۔

گیمبیا نے ثبوت کے طور پر عدالت میں اقوام متحدہ کی رپورٹس پیش کی ، جو روہنگیا مسلمانوں کے قتل، اجتماعی زیادتی اور دیہاتوں کو جلانے کے حوالے سے تیار کی گئی تھیں۔

گیمبیا نے عدالت انصاف سے درخواست کی تھی کہ روہنگیا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا حکم دیا جائے تاکہ صورتحال کو مزید بدتر ہونے سے روکا جاسکے اور استدعا کی گئی کہ میانمار کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے مظالم کے ثبوت محفوظ رکھے اور ان تک اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو رسائی دے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں