The news is by your side.

Advertisement

‏’عمران خان کا مشورہ مانا جاتا تو افغانستان کے حالات مختلف ہوتے‘‏

وفاقی وزیراطلاعات فوادچوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں مخلوط حکومت قائم کی جاتی ‏توحالات مختلف ہوتے عمران خان نےاشرف غنی پرمخلوط حکومت بنانےپر زور دیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں فوادچوہدری نے کہا کہ کابل میں واقعات سے ‏پہلے بھی مخلوط حکومت پر زور دیا تھا تمام لوگوں کوشامل کرنےسےہی افغانستان میں استحکام ‏آسکتاہے۔ ‏

انہوں نے کہا کہ عمران خان نےمشورہ دیا تھا انتخابات کراکر مخلوط حکومت بنائیں وزیراعظم ‏نےکہاتھاافغانستان میں جامع حکومت ہونی چاہیے تمام گروپوں کوحکومت میں شامل کرکےاستحکام ‏لایاجاسکتاہے افغانستان نسلی طور پر تقسیم شدہ ملک ہے علاقائی طاقتوں،امریکااوربرطانیہ کےساتھ ‏رابطےمیں ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ افغان جنگ کی وجہ سے80ہزارافراد اور اربوں ڈالر کی معیشت کھوئی ‏پاکستان کودوسروں کی غلطی پرآسانی سےذمہ دار ٹھہرادیاجاتاہے عالمی برادری کوپاکستان کے ‏مشورے پر پہلےتوجہ دینی چاہیےتھی پاکستان کےمشورےکو نظرانداز کیا گیا اورتنازع کی قیمت ‏ہم نے ادا کی مخلوط حکومت کیلئےعالمی برادری کیساتھ مل کرکام کرناہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان پرکنٹرول نہیں رکھتا بھارت ٹی ٹی پی کوفنڈنگ اورافغان سرزمین ‏استعمال کرتاتھا افغان حکومت کیساتھ سرزمین استعمال کرنےکامسئلہ اٹھایا تھا طالبان کابیان کہ ‏سرزمین استعمال نہیں ہوگی کا خیرمقدم کرتےہیں طالبان نےکہاافغانستان دہشت گرد تنظیموں کی ‏جنت نہیں بنےگا افغانستان میں عدم استحکام جاری رہا تواس سے پاکستان بھی متاثرہوگا ہم ‏افغانستان میں عدم استحکام سےبچنےکی کوشش کررہےہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں