وزارت داخلہ نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو ملائیشیا سے واپس بلالیا
The news is by your side.

Advertisement

وزارت داخلہ نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو ملائیشیا سے واپس بلالیا

اسلام آباد : وزارت داخلہ نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو ملائیشیا سے واپس بلالیا، ،گزشتہ روزسپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ معطل کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کو وطن واپس بلالیا اور مراسلہ جاری کردیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ جان محمد دو نومبرتک ملائشیا میں کورس پرہیں۔انہیں کورس چھوڑکرواپس آنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ نے جان محمد کو فوری طور پر بطور آئی جی اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا کہنا تھا مخالفین نے ان کے چوکیدار کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی، چوکیدار سمیت تین ملازموں پر تشدد بھی کیا گیا، آئی جی نے میری حفاظت کا پاس نہیں کیا۔انکوائری کیلئے تیار ہوں۔

عظم سواتی نے سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا چیف جسٹس کو حقائق سے آگاہ کروں گا، امید ہے چیف جسٹس کو موقف سمجھانے میں کامیاب ہوجاؤں گا۔

وفاقی وزیرعلی زیدی کا کہنا ہے آئی جی نے ایک وزیرکا فون نہیں اٹھایا تو عام آدمی کاکیاحال ہوگا۔ حکومت ویسے بھی آئی جی تبدیل کرنا چاہ رہی تھی۔

گزشتہ روزچیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم عمران خان کے زبانی حکم پر ہونے والا آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ روک دیا تھا۔

مزید پڑھیں : سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے حکومتی احکامات معطل کردیے

اٹارنی جنرل نے آئی جی کی تبدیلی کی سمری عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے زبانی احکامات پر تبادلہ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ تبادلے کی اصل وجہ کیا ہے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خود عدالت کو حقائق بتائیں۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ آئی جی کے تبادلے کا مسئلہ کافی عرصے سے چل رہا ہے، وزیراعظم آفس آئی جی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو کہا کہ کیوں نہ آپ کا بھی تبادلہ کر دیا جائے، کیا آپ کو کھلا اختیار ہے جو چاہیں کریں، وزیراعظم سے ہدایت لے کر جواب داخل کریں، کیا یہ نیا پاکستان آپ بنا رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ایک وزیر کی شکایات پر آئی جی کو تبدیل کیا گیا، آئی جی کی تبدیلی وزارت داخلہ کا کام تھا، کیا ذاتی خواہشات سے تبادلے ہوتے ہیں، کیا حکومت اس طرح افسران کے تبادلے کرتی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو زبانی حکم دینے کی کیا جلدی تھی، کیا حکومت زبانی احکامات پر چل رہی ہے، پاکستان اس طرح نہیں چلے گا، جس کا جو دل کرے اپنی مرضی چلائے، ایسا نہیں ہوگا، اب پاکستان قانون کے مطابق چلنا ہے، زبردستی کے احکامات نہیں چلیں گے، وزیراعظم نے زبانی کہا اور تبادلہ کر دیا گیا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ سیاسی وجوہات پر آئی جی جیسے افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، ریاستی اداروں کو اس طرح کمزور اور ذلیل نہیں ہونے دیں گے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا فون اٹینڈ نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں