The news is by your side.

Advertisement

پولیس کی فائرنگ سے کم سن بچے کی ہلاکت کا معاملہ، آئی جی سندھ نے معافی مانگ لی

کراچی: آئی جی سندھ کلیم امام نے پولیس کی فائرنگ سے 19 ماہ کے بچہ کی ہلاکت پر معافی مانگ لی.

تفصیلات کے مطابق کلیم امام نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس کی جانب سے معافی مانگتا ہوں، ہم چاہتے  ہیں  کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں.

انھوں نے کہا کہ افسران سے درخواست کی ہے، پولیس کو ٹریننگ کرائی جائے، پوری کوشش کریں گے کہ آئندہ ایسا کوئی سانحہ نہ ہو.

ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس واقعے پرافسوس کرتی ہے، سندھ پولیس رول آف لا فالو کرتی ہے، سندھ پولیس عوام، عدالتوں کو جوابدہ ہیں،کل اورکچھ روزپہلےکےواقعات پر متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ 

اب بڑا اسلحہ ختم کردیا،چھوٹےہتھیار سے ٹریننگ کرائیں گے،  ڈھائی ہزار سے زیادہ پولیس کےجوان شہید ہوئے، 53 فیصد قتل کی واردتوں میں کمی آئی،  موبائل چھیننےکی وارداتوں میں بھی کمی آئی، حال میں ہونے والے واقعات کو ٹریس کیاگیاہے، 71 دہشت گرداور 12 ٹارگٹ کلرز گرفتارکیے۔

واضح رہے کہ 16 اپریل 2019 کو شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال یونیورسٹی روڈ پر پولیس کی فائرنگ سے 19 ماہ کا کمسن بچہ جاں بحق ہوگیا تھا.

کراچی: سندھ پولیس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ڈیڑھ سالہ جاں بحق

سندھ پولیس کا دس روز کے دوران پولیس کی مبینہ فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد دو ہوگئی ہے.

مقتول بچے کے والد کاشف نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ یونیورسٹی روڈ پر رکشے میں جاررہے تھے کہ اسی دوران پولیس کو فائرنگ کرتے دیکھا اور کچھ دیر بعد احسن کے جسم سے خون نکلنے لگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ خون بہنے کے بعد ہم اُسی رکشے میں بچے کو لے کر اسپتال پہنچے، مگر وہ اُس وقت تک دم توڑ چکا تھا۔ پولیس نے فائرنگ کرنے والے دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے لیا۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں