The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس : احتیاطی تدابیر پرعمل درامد کو یقینی بنایا جائے، آئی جی سندھ

قتل، ڈکیتی اور رہزنوں سمیت مفرور و اشتہاری ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے حراست میں لیا جائے، مشتاق احمد مہر

کراچی : پولیس آفس میں آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر نے شہر میں امن وامان کی صورتحال اوراس ضمن میں پولیس کے آپریشنل اور انویسٹی گیشن امور پر مشتمل خصوصی اجلاس کی صدارت کی اور ضروری ہدایات دیں۔

اجلاس میں انہوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد، جرائم/ اسٹریٹ کرائمز، مفرور واشتہاری ملزمان کے خلاف پولیس اقدامات سمیت چالان کیے گئے مقدمات اور زیر التواء چالان کے علاوہ زیرالتواء ڈی این اے رپورٹس پر دی جانیوالی بریفنگ کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس میں مشتاق احمد مہر نے ایڈیشنل آئی جی کراچی اور اجلاس میں شریک تینوں زونل ڈی آئی جیز،ضلعی ایس ایس پیز اور ایس ایس پیز انویسٹی گیشن کو ضروری ہدایات دیں۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ کورونا ایک وبائی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے لہٰذا اس وائرس سے بہتر اور مؤثر انداز میں نمٹنے کیلیےاشد ضروری ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے جاری رہنما ہدایات پر عملدرآمد کو اس کی روح کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ جس کا مقصد اس وبا کے انسدادی اقدامات کو نہ صرف مؤثر بنانا بلکہ اسے پھیلنے سے روکنا بھی ہے۔

انہوں مزید کہا کہ کوروناوائرس سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے متعلق سینٹرل پولیس آفس سے وقتاً فوقتاً جاری احکامات پر بھی عمل درآمد کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائیگا۔

انہوں نے ہدایات دیں کہ مختلف نوعیت کے جرائم اور اسٹریٹ کرائمز سے متاثرہ علاقوں میں پولیس پیٹرولنگ اور رینڈم اسنیپ چیکنگ کے عمل کو متعلقہ ایس ایچ اوز کی سپر ویژن میں جامع امور کو مؤثر اورمربوط بنایا جائے۔

تھانہ جات کے لحاظ سے ترتیب کردہ فہرستوں کا ازسرنوجائزہ لے کر مختلف نوعیت کے مقدمات میں مفرور اور اشتہاری ملزمان کی گرفتاریوں کے لئے ٹاسکنگ کی جائے اور اس حوالے سے بالخصوص قتل، ڈکیتی، رہزنی،اسٹریٹ کرائمز و دیگر سنگین جرائم میں مفروراوراشتہاری قرار دیئے جانیوالے ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن کو فوقیت دی جائے۔

آئی جی سندھ نےان ٹریسڈ مقدمات کی ڈی ٹیکشن اور پینڈنگ چالان کو جلد سے جلد منطقی انجام تک پہنچانے اور حل کرنے پر زوردیتے ہوئے کہا کہ افسران کی کارکردگی کا جائزہ اس بنیاد پر لیا جائے گا ۔

انھوں نے مزید ہدایت کی کہ متعلقہ عدالتوں میں کیسز کی بابت ذیر التواءڈی این اے رپورٹس کو فوری طور پر جمع کروایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس ایچ اوز،ایس آئی اوز،آئی اوز کی کارکردگی کو بالترتیب آپریشنل اور انویسٹی گیشن کی صلاحیت کی بنیادوں پر پرکھا جائیگا۔

آئی جی سندھ نے پولیس کے شعبہ تفتیش کو زیادہ سے زیادہ وسائل‌ کی فراہمی اور اسکی مزید بہتری جیسے اقدامات پر اپنے بھرپورعزم کا اعادہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں