The news is by your side.

Advertisement

بھارت: آسام واقعے پر شدید ردعمل، ‘حیوانیت کی انتہا قرار’

نئی دہلی: بھارتی ریاست آسام میں غیر قانونی تجاوزات کی آڑ میں دو مسلمانوں کی شہادت پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، واقعے کو ‘حیوانیت کی انتہا قرار دیا جارہا ہے۔

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ‘غیر قانونی تجاوزات‘ کے خلاف پولیس کارروائی میں دو مسلمانوں کی ہلاکت اور لاش کی بے حرمتی کے واقعے کی سخت مذمت کی جارہی ہے اور اسے ‘حیوانیت کی انتہا‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

آسام کے درانگ ضلع کے سیپا جھار علاقے میں مبینہ ‘غیر قانونی تجاوزات‘ کے خلاف حکومتی کارروائی میں پولیس اور لوگوں کے مابین جھڑپ کے دوران پولیس فائرنگ میں دو افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

اس تصادم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس ایک شخص کو انتہائی بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنارہی ہے سے پیٹ رہی ہے، فائرنگ میں ہلاک ہوجانے والے ایک شخص کی لاش پر ایک کیمرہ مین نہ صرف کود رہا ہے بلکہ اسے گھونسے بھی مار رہا ہے، بتایا جاتا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے صورت حال کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک مقامی کیمرہ مین کی خدمات حاصل کی تھیں۔

آسام میں اس وقت ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے، چند ماہ قبل ہیمنت بسوا سرما کو وہاں کا وزیر اعلی مقرر کیا گیا تھا، اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں میں ‘غیر قانونی تجاوزات‘ کے خلاف مہم شروع کی، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برسوں سے رہنے والے افراد کو بے دخلی کے نام پر دراصل مسلم اقلیتوں اور بنگالی برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں دو مساجد شہید، مسلمانوں کے سیکڑوں گھر مسمار

مقامی میڈیا کے مطابق وزیر اعلیٰ سرما کھلے عام مسلمانوں اور بنگالیوں کے خلاف باتیں کررہے ہیں، وہ لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا یہ کام پچھلے کئی ماہ سے کررہے ہیں اور جمعرات کے روز کا واقعہ بھی اسی کی ایک کڑی تھا۔

اشیش چکرورتی کا کہنا تھاکہ چونکہ سرما کا تعلق آرایس ایس سے نہیں ہے اس لیے وہ اپنی ‘کارکردگی‘ سے آر ایس ایس اور بی جے پی کو ‘خوش‘ کرنا چاہتے ہیں۔ چکرورتی کے بقول، ”جمعرات کے روز کا واقعہ نہ صرف انتہائی افسوس ناک بلکہ انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔ یہ حیوانیت کی انتہا ہے۔”

متعدد سیاسی جماعتوں نے بھی درانگ میں فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے، کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ایک ٹوئٹ کرکے پولیس کارروائی کی نکتہ چینی کی، انہوں نے لکھا، ”آسام میں حکومت کی نگرانی میں آگ لگی ہے۔ میں ریاست میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔ بھارت کے کسی بھی بچے کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔”

Comments

یہ بھی پڑھیں