The news is by your side.

کویت میں رہائش پذیر تارکین وطن کے لئے اہم خبر

کویت سٹی: کویت نے اقامتی قانون سے متعلق اہم اصلاحات کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کویتی حکومت نے عام انتخابات کے بعد تارکین وطن کی تعداد کو کم کرنے، ملازمتوں کو کویتی شہریوں تک محدود کرنے اور نجی شعبے میں کویتی شہریوں کی تعداد بڑھانے اور معیشت میں اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، جسے’اقامتی قانون ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ قومی اسمبلی میں جو قوانین پیش کیے گئے تھے وہ چند تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ نئی اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے جن کی درخواست سابق اراکین پارلیمنٹ اور انتخابات میں حصہ لینے والے کچھ امیدواروں نے کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لاکھوں تارکین وطن اچانک کویت چھوڑ گئے

مجوزہ نیا قانون اسپانسرز (کفیل) پر پابندی عائد کرتا ہے کہ وہ پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کی اجازت کے بغیر غیر ملکی کارکنوں کو ملک میں نہ لائیں۔

مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ  جو   یہ کام کرے گا اسے پانچ ہزار سے 50 ہزار کویتی دینار کے بھاری جرمانے ادا کرنا ہونگے، اس کے علاوہ کارکنوں کو ملک بدر کرنے کے تمام اخراجات کفیل کے ذمے ہونگے، باربار خلاف ورزی پر درخواست پبلک پراسیکیوشن کو بھیجی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون سرکاری منصوبوں کے لیے کنٹریکٹ کیے گئے اسپانسرز کو ملک سے باہر سے کارکنوں کو بھرتی کرنے یا مطلوبہ تعداد سے زیادہ کارکنوں کو بھرتی کرنے کے لیے مجاز حکام کو درخواست دینے سے بھی منع کرتا ہے جس سے اقامہ کی تجارت کو روکنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ امکان ہے کہ یہ تبدیلیاں نئی اسمبلی کی مدت کے دوران ہوں گی کیونکہ عام لوگوں کو یقین ہے کہ آبادیاتی عدم توازن، غیر ہنر مند کارکنوں میں اضافہ اور کفیلوں اور کارکنوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے خلاف ورزیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں