The news is by your side.

روسی تیل کی درآمد کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا ہے، بھارت

نئی دہلی : بھارت کی خاتون وزیرخزانہ نرملا سیتا رامن نے کہا ہے کہ روس سے تیل کی درآمدات ملک میں ہونے والی مہنگائی کو کم کرنے کیلئے جاری حکمت عملی کا حصہ ہے۔

نئی دہلی میں اک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک بھی ایسی ہی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

بھارتی وزیرخزانہ نے کہا کہ مغربی ممالک کے دباو کے باوجود بھارت نے فروری میں ہونے والی روس یوکرین جنگ کی مذمت نہیں کی بلکہ معاملات اور بحران کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ روس گزشتہ کئی دہائیوں سے ہندوستان کا دفاعی ساز و سامان کا سب سے بڑا غیر ملکی سپلائر رہا ہے۔

وزیر خزانہ نرملا نے بتایا کہ رواں سال ماہ فروری سے لے کر اب تک روس سے خام تیل کی درآمدات 12 سے بڑھ کر 13 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو اس سے قبل محض 2فیصد تھی۔

بھارتی وزیر خزانہ کے مطابق انڈیا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا صارف اور خام تیل کا درآمد کنندہ ملک ہے جو نریندر مودی کے مختلف ممالک کے ساتھ تجارت اور دیگر تعلقات میں توازن کی مرہون منت ہے۔

اپنے خطاب میں سیتا رمن کا کہنا تھا کہ ہندوستانی حکومت نے اس سے قبل بھی بارہا کہا ہے کہ ملک کو مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں : بھارتی کمپنیوں کا روس سے تیل کے بعد کوئلہ خریدنے کا بھی بڑا معاہدہ

واضح رہے کہ مغربی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود بھارتی کمپنیوں نے روس سے تیل کے بعد کوئلہ خریدنے کا بھی بڑا معاہدہ کرلیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی سیمنٹ کمپنی روس سے کوئلہ خریدے گی اور الٹرا ٹیک کوئلے کیلیے ادائیگی چینی کرنسی میں کرے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں