The news is by your side.

Advertisement

الیکشن کمیشن حمزہ اور مریم سے حکم لینے جاتا ہے، عمران خان

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے یہ لوگ الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کا پروگرام بنا رہے ہیں، الیکشن کمیشن حمزہ اور مریم سے حکم لینے جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ان کا مقصد اب دھاندلی سے الیکشن جیتنا ہے جو واشنگٹن سے حکم آئیگا وہ ماننا ہے اس کے لیے یہ لوگ الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کا پروگرام بنا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، ہمیں پتہ ہے ہر چھٹی والے دن چیف الیکشن کمشنر کہاں جاکر ڈکٹیشن لیتا ہے، مریم نواز اور حمزہ شہباز چیف الیکشن کمشنر کو ہدایات دے رہے ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی سربراہ نے کہا کہ ہم پر امپورٹڈ حکومت مسلط کردی گئی ہے جس کے دور میں ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے، امپورٹڈ حکومت ملکی بہتری یا عوام کی خدمت کیلیے نہیں لائی گئی بلکہ ملک میں امریکا کے غلاموں کی حکومت ہے اور جو حکم واشنگٹن سے آئے گا وہ انہوں نے ماننا ہے امریکا نے اپنی پالیسیاں چلانے کیلیے امپورٹڈ حکومت کو ہم پر مسلط کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت امریکا کا اتحادی ہونے کے باوجود روس سے تیل خرید رہا ہے، ہماری حکومت نے روس سے تیل خریدنے کی بات کی تھی لیکن اس وقت ہمارے ملک پر مسلط امریکی غلاموں کی جرات نہیں کہ روس سے تیل خریدے، امریکا اجازت نہیں دیگا تو یہ تیل نہیں خریدیں گے، موجودہ وزیر خزانہ کہتا ہے کہ روس ہمیں آکر بتائے کہ وہ کتنا تیل دے گا، تیل خریدنے کی ہمیں ضرورت ہے تو کیا روس ہمیں آکر بتائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ امریکی غلاموں کو امریکا سے ڈر لگا ہوا ہے اس لیے روس سے بات نہیں کرتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ تو ہمارے دور میں کہتے تھے مہنگائی بہت زیادہ ہے لیکن انہوں نے تو 2 ماہ میں اتنی مہنگائی کردی، دو ماہ میں ایسا کیا ہوگیا کہ ہر چیز مہنگی ہوتی جارہی ہے، انڈسٹریز میں بھی مسائل شروع ہوگئے ہیں، بجلی کی قیمتیں اوپر گئی ہیں اور گزشتہ دو ماہ میں جو لوڈشیڈنگ ہورہی ہے وہ سب دیکھ رہے ہیں، بات صرف یہ ہے کہ دودھ کی رکھوالی پر بلے کو بٹھا دیا گیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ یہ صرف ایک ہی مقصد کیلئے آئے تھے، اپنے مقدمات ختم کرنے کیلیے انہوں نے نیا قانون بنایا ہے یہ سارے اپنے کیس ختم کریں گے، ایف آئی اے پر یہ خود بیٹھ گئے ہیں، نیب کا قانون ختم کردیا ہے، ڈاکٹر رضوان اور مقصود چپڑاسی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرچکے ہیں، یعنی نیب بھی ختم، شریف خاندان اور زرداری کے سارے کیسز بھی ختم۔

پی ٹی آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ مخالفین پر مقدمات کرنا ن لیگ کا پرانا وطیرہ ہے، ہم پر انہوں نے مقدمے کرا دیے، ہمارے دور میں کہتے تھے صحافیوں کو مشکلات ہیں، آج صحافیوں کو فون کرکے دھمکیاں دی جاتی ہیں، متعدد صحافیوں پر مقدمےکردیے، میڈیا ہاؤسز کو فون کرکے کہا جاتا ہے کوریج نہ کریں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں انڈسٹری کی ترقی پر بھی زور لگایا، ہم نے کسانوں کو سبسڈیز دیں، فیصلہ کیا تھا کہ کپاس، دالوں اور دیگر چیزوں پر کسانوں کو سبسڈی دیں گے، ہم نے یوریا پر132 ارب روپے کی سبسڈی دی، ہمارے دور میں یوریا کی بوری1700کی تھی آج 2800کی ہوگئی ہے، یوریا مہنگی ہونے کی وجہ سے زراعت پر فرق پڑے گا، ہم نے پانی پر پیسہ خرچ کیا، دریاؤں پر خصوصی توجہ دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسانوں نے ہمارےدور میں ریکارڈ پیداوار دی، گزشتہ ایک سال میں کپاس کی پیداوار میں17 فیصد، چاول کی پروڈکشن میں 10 فیصد، گنے کی پیداوار میں 4.9 اورچینی کی پروڈکشن میں24 فیصد بڑھی جب کہ دالوں کی پیدوار بھی 29 فیصد بڑھی۔

عمران خان نے کہا کہ یوکرین اور روس کی جنگ کی وجہ سے لوگوں کو خوف ہے کہ دنیا قحط کا شکار ہوجائے گی، اس جنگ کی وجہ سے گندم کی برآمدات پر فرق پڑیگا قیمتیں بھی بڑھیں گی اور دنیا میں اس کی قلت ہوگی لیکن پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کو اللہ نے زرخیز زمین اور بہترین موسموں سے نوازا ہے، ملک زراعت کے ذریعے اپنی دولت میں اضافہ کرسکتا ہے، آج جو کسانوں کے حالات ہیں اس پر خصوصی توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقت میں پاکستان کو فوڈ سیکیورٹی کے مسائل آئیں گے لیکن موجودہ امپورٹڈ حکومت سے ہمیں کوئی خاص امید نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح قیمتیں بڑھتی جارہی ہیں مسائل بھی بڑھیں گے، بجلی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سےکسان پر بہت فرق پڑیگا، اگر ٹارگٹڈ سبسڈیز نہ دی گئیں تو ڈر ہے آگے جاکر فوڈ سیکیورٹی مسائل ہونگے، فوڈ سیکیورٹی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان جیسے لوگوں کے ہوتے ہوئے پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، ان کے خلاف ہم سیاست نہیں بلکہ جہاد کررہے ہیں، ہم نے اب حقیقی آزادی کی تحریک چلانی ہے اور مل کر جدوجہد کرنی ہے اور مجھے امید ہے کہ ملک میں جلد الیکشن ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں