ترک اسکولوں کی بندش شرح خواندگی میں کمی کا باعث ہو گا،عمران خان -
The news is by your side.

Advertisement

ترک اسکولوں کی بندش شرح خواندگی میں کمی کا باعث ہو گا،عمران خان

لاہور : پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ترک سفیر کی جانب سے پاکستان میں فتح اللہ گولن کے زیر انتظام چلنے والے اسکولوں کی بندش کے مطالبے کی مخالفت کر دی۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سماجی ویب سائیٹ پر اپنے ایک پیغام میں پاکستان میں قائم ترک نجی اسکولوں کی ممکنہ بندش کی مخالفت کردی،انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلے ہی شرح خواندگی نہایت کم ہے اسکولوں کی بندش سے اس میں مزید کمی آجائے گی، حکومتوں کا کام نئے اسکول تعمیرکرنا ہوتا ہے نہ کہ پہلے سے تعمیر شدہ اسکولوں کو بند کرنا؟

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے دوسرے پیغام میں انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ہم مضبوطی سے ترک جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ترک میں فوجی بغاوت کی پُر زور آواز میں مذمت بھی کی تھی تاہم پاکستان میں موجود پاک ترک اسکولوں کو بند نہیں ہونا چاہئے۔

بعد ازاں سربراہ تحریک انصاف نے بتایا کہ ترک سفارت کار نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ترک حکومے کے کسی بھی اقدام کے پاکستان میں منفی اثرات مرتب نہیں ہونے دیں گے۔

یاد رہے اس قبل پاکستان مین ترک سفیر نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان حکومت سے اپیل کی تھی کہ پاکستان مین قائم فتح اللہ گولن کے زیر انتظام چلنے والے ترک اسکولوں کو بند کر دیا جائے۔

مزید جانیے : پاکستان میں چلنے والے فتح گولن کے ادارے بند کرنے کی استدعا کرتے ہیں.ترک سفیر

واضح رہے 16 جولائی کو ہونے والی فوجی بغاوت کو ترکی عوام صدر طیب اردگان کی اپیل پر گھروں سے باہر نکل کر نے اپنے اتحاد سے ناکام بنا دیا تھا،جس کے بعد ترک ترجمان نے فوجی بغاوت کی سرپرستی کا الزام معروف ماہر تعلیم، سیاست داں اور کئی کتابوں کے مصنف فتح اللہ گولن پر لگایا تھا جو آج کل امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے : بغاوت کا الزام، فتح گولن کو ترکی کے حوالے کیے جانے کا امکان

 

دوسری جانب معروف اسکالر اور ترکی کے مشہور سیاستداں فتح اللہ گولن نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی سخت الفاظ میں تنقید کی تھی، اُن کا کہنا تھا کہ طیب اردگان سے ہزارہا سیاسی اختلاف کے باوجود وہ کسی فوجی بغاوت مین شراکت داری کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

اسی سے متعلق : گولن کی فوجی بغاوت کی سرپرستی کے الزام کی سختی سے تردید

 

فتح اللہ گولن کی تعلیمی میدان میں ان گنت نمایاں جدو جہد کو عالمی سطح پر سراہایا جاتا ہے،تا ہم طیب اردگان سے اختلاف کے باعث امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن دنیا بھر کے کئی ممالک میں معیاری اسکول چلا رہے ہیں اُن میں چند اسکول مشرف دور مین پاکستان مین قائم کیے گئے تھے جو کم وسائل رکھنے والے طالب علموں کو تعلیم مہیا کر رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں