site
stats
پاکستان

علی امین گنڈا پور پر الزام، تحریک انصاف نے داور کنڈی کو پارٹی سے نکال دیا

پشاور: تحریک انصاف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو سرعام بے لباس گھمانے کا الزام علی امین گنڈا پور پر عائد کرنے والے رکن قومی اسمبلی داور کنڈی کو پارٹی سے نکال دیا۔

 تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی داور کنڈی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ علی امین گنڈا پور نے واقعے میں ملوث ملزمان کو پشت پناہی فراہم کی‘۔

ترجمان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ڈی آئی خان واقعے پر داور کنڈی نے پارٹی کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ، اس عمل پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنماء نعیم الحق نے رکن قومی اسمبلی کو پارٹی سے نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’داور کنڈی کے پارٹی اراکین سے اختلافات تھے جس کی بنیاد پر انہوں نے بے بنیاد الزامات عائد کیے، اب انہیں اپنے الزامات ثابت کرنے ہوں گے‘۔

علی امین گنڈا پور پر الزام بے بنیاد ہے، عمران خان

بعد ازاں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بیان جاری کیا جس میں اُن کا کہنا ہے کہ داور کنڈی کافی عرصے سے پارٹی سے باہر ہیں اور وہ 1 سال سے پارٹی مخالف بیانات دے رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’داور کنڈی نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا بلکہ جھوٹ کا سہارا لیا، آئی جی خیبرپختونخواہ نے خود تصدیق کی کہ علی امین گنڈا پور پر عائد ہونے والا الزام غلط ہے کیونکہ کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں۔

عمران خان کامزید کہنا تھا کہ علی امین پر الزام بے بنیاد ہے اس لیے جھوٹا الزام لگانے پر داور کنڈی کو پارٹی سے نکال رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈی آئی خان میں لڑکی کو برہنہ گھمانےکا افسوس ناک واقعہ

یاد رہے کہ یکم نومبر کو خیبرپختونخواہ کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کو زبردستی اسلحے کے زور پر برہنہ گھمانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق لڑکی کے بھائی کی دوسری خاتون سے دوستی کی بنیاد پر مخالفین نے 16 سالہ لڑکی کو زبردستی اغوا کیا اور کپڑے پھاڑ کر اُسے اسلحے کے زور پر پورے گاؤں میں گھمایا۔

متاثرہ لڑکی شریفاں بی بی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سہلیوں کے ہمراہ تالاب سے پانی بھر کر واپس گھر آرہی تھی کہ سجاول نامی شخص نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اغوا کیا اور ملزم سیدو کے گھر لے گئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بعد ازاں شاہ جہاں نامی شخص نے میرے کپڑے پھاڑے اور پھر مجھے پورے گاؤں میں گھسیٹا گیا۔

آئی جی خیبرپختونخواہ نے افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتار ی کے احکامات جاری کیے جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 9 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے۔

واضح رہے کہ داور کنڈی کی جانب سے صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو پشت پناہی فراہم کی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top