The news is by your side.

Advertisement

عمران خان نے وزیر اعظم اور شہباز شریف سے استعفے کا مطالبہ کردیا

نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، بھارت اسرائیل لابی مغرب میں پاکستان کے خلاف سرگرم ہے، عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے شاہد خاقان عباسی اورشہباز شریف دونوں استعفیٰ دیں، نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔

تفصیلات کے مطابق عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اسرائیل لابی مغرب میں پاکستان کے خلاف پروپگنڈا کر رہی ہے۔ ہندوستان کہتا ہے کہ کشمیریوں کو پاکستان بھڑکا رہا ہے، مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد یہ مؤقف اور مضبوط ہوا۔

انھوں نے کہا کہ نوازشریف کے بیان پر بھارت میں خوشیاں منائی گئیں، بیان سے پاک فوج کے خلاف تاثر گیا، ڈان لیکس میں نوازشریف نے انٹرنیشنل اسٹیبلشمٹ کو اپیل کی کہ مجھے بچاؤ۔

شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کہہ رہے ہیں بھارتی میڈیا نےغلط سنا ہے جب کہ نوازشریف کا مطلب ہے ریاست دہشت گرد جانے سے روک سکتی تھی، یہ لوگ ہندوستان کی زبان بول رہے ہیں۔ پاکستان گرے لسٹ میں ہے، ایسے بیانات سے گریز کیا جائے۔

انھوں نے کہا کیا ن لیگ پولیٹیکل پارٹی ہے، سیاسی جماعت کا ایک نظریہ ہوتا ہے، ان کا تو کوئی نظریہ ہی نہیں، نواز شریف نے جو کیا ہے اس سے بڑی غداری کیا ہوسکتی ہے، بھارت اس بیان کو آگے لے گیا تو پاکستان کا نقصان ہوگا۔

عمران خان نے کہا یہ سب ڈاکو ہیں، شہبازشریف کی ایک ایک کمپنی میں کرپشن نکلے گی، ان کے بیٹے بھی کرپشن میں ملوث ہیں، نیب تحقیقات کرے حسن، حسین کے بھارت میں کتنے بزنس ہیں۔

کراچی کو آگے کیسے لے کر جانا ہے؟ عمران خان کا شہریوں کو پیغام

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرپشن مافیا کے گرفت میں پھنسا ہوا ہے، مافیا کے مفادات ایک ہوتے ہیں لیکن نظریہ ایک نہیں ہوتا، شاہد خاقان عباسی بھی کرپشن میں پورے ملوث ہیں، اس طوطے کی جان ایل این جی میں پھنسی ہوئی ہے، سوچتا تھا شاہد خاقان میں شاید تھوڑی اخلاقیات جاگ جائے۔

عمران خان نے کہا فوج سے بھی ماضی میں غلطیاں ہوئیں میں نے سب سے زیادہ تنقید کی لیکن موجودہ صورت حال کوسمجھنے کی ضرورت ہے، پاکستان کے خلاف عالمی سطح پرایک سازش چل رہی ہے، مسلم ممالک کا حال دیکھ لیں ان کی مدد کے لیےکوئی آگے نہیں آیا، پاکستان کے خلاف بھی اسی قسم کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں