site
stats
پاکستان

نااہلی کیس: عمران خان کی کرکٹ سے آمدن کی تفصیلات طلب

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں عمران خان کی نا اہلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان چوری پکڑنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر چوری پکڑنی ہے تو خود بھی جواب دینا ہوگا۔ عمران خان سے کرکٹ کی آمدن کی تفصیلات طلب کرلیں گئی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان کی نااہلی سے متعلق حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔

دوران سماعت حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تحریک انصاف نے متفرق درخواستوں اور عمران خان نے اپنے ٹی وی انٹرویوز سے متعلق درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملے میں موجود خلا کو پر کرنا ضروری ہے۔ کسی خلا کے باعث سماعت میں رکاوٹ نہیں چاہتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان کے پاس 1 لاکھ 17 ہزار پاؤنڈز کہاں سے آئے، لندن میں ادائیگی کب اور کیسے کی گئی، تمام ادائیگیوں کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ دستاویز نہ ملنے پر حالات کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیری پیکر سے ایک لاکھ 88 ہزار پاؤنڈ وصولی کا بیان حلفی ہے۔ بیان حلفی کے ساتھ کوئی اور دستاویزات نہیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے جواب پر تحریک انصاف کے جواب الجواب میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ وکیل انور منصور کہاں ہیں، جس پر عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انور منصور 15 اگست تک چھٹیوں پر ہیں۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ججز چھٹیاں چھوڑ کر سماعت کر رہے ہیں۔ صرف معذرت سے کچھ نہیں بنے گا کیوں نہ عمران خان کو بلا لیں جو خود اپنی اور پارٹی دونوں کی نمائندگی کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستی نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے بیرونی فنڈنگ کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے چھان بین کی۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کی ذمہ داری سے متعلق پوچھا تو وکیل نے بتایا کہ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کمیشن مقرر کرنا یا نہ کرنا عدالت کی صوابدید ہے، پارٹی کے بینک اکاؤنٹس چیک کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں۔ غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن ممنوعہ فنڈز کو ضبط کرنے، بیرون ملک فنڈنگ پر از خود نوٹس لینے اور کارروائی کا اختیار رکھتا ہے تاہم کسی سیاسی جماعت نے لوکل فنڈز بھی ظاہر نہیں کیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ کئی سال تک الیکشن کمیشن سویا رہا۔ ایک کو پکڑیں گے تو تعصب کا الزام لگے گا الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔

سپریم کورٹ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نان ریزیڈنٹ ہوتے ہوئے ریٹرنز جمع کرنا لازمی ہے۔ نان ریزیڈنٹ کے اثاثے 25 لاکھ سے زائد ہوں تو ظاہر کرنا ضروری ہیں۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کی کرکٹ سے آمدن کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ عدالت نے کہا کہ کرکٹ سے کمائی گئی رقم کو ثابت کرنا ہوگا۔ بہت قانونی نکات ہیں جن پر بحث ہونا ضروری ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بتانا ہوگا کہ سنہ 1971 سے 1983 تک پیسہ کمایا بھی یا نہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ سے غیر ملکی دورے میں لی گئی رقم بھی ظاہر کرنا ہوگی۔

سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top